افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مغربی صوبے فرح سے طالبان نے افغان سیکیورٹی افواج کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ فرح میں افغان پولیس کے سربراہ آقا ثاقب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیکیورٹی افواج کو محصور کر لیا گیا تھا جس کے وجہ سے ان تک کمک کی رسائی نا ممکن ہو گئی تھی۔ طالبان نے جنوبی اور مشرقی افغانستان میں افغان اور غیر ملکی افواج سے کئی زبردست لڑائیاں لڑی ہیں اور ان لڑائیوں میں سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔ فرح سے ان اطلاعات کے بعد افغان اور غیرملکی افواج میں یہ تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ اب مغرب میں بھی ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے تشدد میں بھاری اسلحے سے لیس سینکڑوں طالبان نے حصہ لیا۔ پاکستان میں صدر دفتر رکھنے والے خبر رساں ادارے افغان اسلامی پریس نے افغانستان کے ایک سابق حکمراں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایک مختصر لڑائی کے بعد گلستان کے صدر دفاتر پر قبضہ کر لیا گیا‘۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ’لڑائی میں ایک فوجی مارا گیا اور حکومت کی دو گاڑیاں تباہ ہوئی‘۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ بعد میں طالبان نے ان دفاتر کو آگ لگا دی جنہیں سرکاری اہلکاروں سے خالی کرایا گیا تھا۔ حکام نے ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے تام یہ نہیں بتایا کہ اس لڑائی میں کتنے طالبان ہلاک ہوئے۔ بدھ کو چار طالبان او چار پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں وزیرستان ایک تجربہ گاہ10 September, 2006 | پاکستان 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت16 ہلاک08 September, 2006 | آس پاس ’افغان مزاحمت عراق سے شدید ہے‘08 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||