جنازے پر بھی خودکش حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ پکتیا میں خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے گورنر کے جنازے پر بھی خود کش حملہ ہوا ہے جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گورنر پکتیا عبدالحکیم تانیوال کو گزشتہ اتوار کو ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کے جنازے پر کیئے جانے والے خودکش حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں حالیہ تشدد کی لہر میں ہلاک ہونے والوں میں عبدالیکیم تانیوال سب سے اعلیٰ ترین سرکاری اہلکار ہیں۔ تانیوال پر خود کش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق گورنر پکتیا کی آخری رسومات پکتیا سے ملحقہ خوست صوبے کے ضلع تانی میں ادا کی جارہی تھیں جب ان کے جنازہ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچوں پولیس کے اہلکار تھے جبکہ حملہ میں تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے ٹی وی کیمرہ مین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب سرکاری وفد جو کابل سے جنازے میں شرکت کے لیئے خصوصی طور پر پکتیا آیا تھا واپسی کے لیئے ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا سرکاری وفد میں شامل کوئی شخص بھی دھماکے میں زخمی ہوا ہے۔ عبدالحکیم تانیوال پر گردیز میں ان کے دفتر کے باہر حملہ ہوا تھا جس میں ان کا ایک محافظ اور ڈرائیور بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے عبدالحکیم تانیوال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک محب وطن اور باعمل انسان قرار دیا۔ | اسی بارے میں 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس چالیس مشتبہ طالبان ہلاک: نیٹو09 September, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت16 ہلاک08 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||