’انفارمر‘ مشہور کینیڈین مسلم نکلا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں سترہ افراد کی گرفتاری میں مدد کرنے والا شخص مسلمان کینیڈین شہری نکلا۔ اس شخص کا نام مبین شیخ ہے اور وہ کینیڈین مسلم کمیونٹی میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ٹورانٹو کینیڈا میں پیدا ہونے والے تیس سالہ مبین شیخ نے جمعہ کو اچانک کینیڈین میڈیا کے سامنے آکر بتایا کہ انہوں نے خفیہ اداروں کا خبر رساں بننے کا ارادہ اس لیۓ کیا وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں گھل مل کر اپنے پیدائشی ملک کینیڈا کا تخفط کر سکیں۔ مبین شیخ کے سترہ ملزمان سے میل جول اور رابطوں کے بارے میں ایک مقامی موقر اخبار نے خبر شائع کی تھی مگر کینیڈین قوانین کے مطابق اس کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا- مگر گزشتہ روز مبین شیخ نے اچانک ایک ٹی وی چینل پر آکر کینیڈین عوام کو حیران کر دیا۔ مبین شیخ کو پولیس اور خفیہ اداروں نے معلومات فراھم کرنے پر معاوضہ ادا کیا تھا- انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اور خفیہ اداروں نے ان کو نئی شناخت دیکر ان کے خاندان کے ہمراہ دوسرے شہر منتقل کرنے کی پیش کش بھی کی تھی جو کہ انہوں نے ٹھکرادی ھے۔
تیس سالہ مبین شیخ نے کہا کہ انہوں نے مسلم کمیونٹی کی طرف سے بے پناہ فون کالز موصول ہونے کے بعد اس خاموشی کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سترہ ملزموں سے میل جول کے باوجود ان کو دو جون کو چھاپوں کے دوران گرفتار نہ کیا گیا جسکا سب کو علم تھا۔ مبین نے کہا کہ وہ اس ساری کہانی کو کنٹرول میں لینا چاھتے تھے اور کینیڈین خفیہ اداروں کو معلومات فراھم کر کے زندگیاں بچانا چاھتے تھے۔ مبین رائل کینیڈین آرمی کیڈٹ رہ چکے ہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین یہ خیال نہ کریں کہ تمام مسلمان ان سترہ افراد جیسے ھیں ’اور میرا مقصد صرف مدد کرنا تھا‘- مبین افغانستان اور عراق میں جہاد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ’اپنے ملک کے معصوم شہریوں پر حملوں کے سخت خلاف ہیں‘۔ مبین شیخ نے سن دو ہزار چار میں پہلی دفعہ خفیہ اداروں سے اسوقت رابطہ کیا جب محمد مومن خواجہ نامی شخص کو دھشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا- مبین مومن خواجہ اور اسکے خاندان کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور انہوں نے کینیڈین خفیہ اداروں کو بھرپور مدد فراھم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ گزشتہ سال کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس نے ان کو ٹورانٹو میں سرگرم دھشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ میں شامل ہو کر معلومات حاصل کرنے کو کہا۔ یہ گروہ کئی ماہ سے خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں تھا۔ مبین شادی شدہ ہیں اور اسکی نومسلم بیوی جوعانہ سِسکا پولینڈ نژاد کینیڈین شہری ہیں۔ ان کاایک بچہ بھی ھے- کینیڈین حلقے ان کو مسلم کینیڈین ھیرو قرار دے رھے ھیں جبکہ کچھ مسلم حلقے ان پر ناراضگی کا اظہار کر رھے ھیں۔ کینیڈین مسلم کانگرس کے طارق فتح نے کہا ھے کہ ’مبین جو پہلے کینیڈا میں شدت پسند گروہ سپورٹ کرتا تھا آج کینیڈین تحفظ کی باتیں کرتا ھے‘۔ | اسی بارے میں کینیڈا:مقدمے کی رپورٹنگ پر پابندی 13 June, 2006 | آس پاس کینیڈا: ملزمان کی عدالت میں پیشی07 June, 2006 | آس پاس گرفتار ہونے والے کون ہیں؟05 June, 2006 | آس پاس کینیڈا: چھاپوں میں سترہ گرفتار03 June, 2006 | آس پاس ’جارج بش سب سے بڑا دہشت گرد ہے‘07 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||