کابل میں طالبان کا خوف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس سال قبل آج کے دن طالبان نے افغانستان کے پائے تخت کابل پر شمالی اتحاد کو ہٹا کر قبضہ کیا تھا۔ دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کا پہلا قدم سخت اسلامی قوانین کا نافذ کرنا تھا۔ ان اقدامات میں عورتوں پر روزگار اور تعلیم کے دروازے بند کرنا اور موسیقی اور ٹیلی ویژن پر پابندی لگانا تھا۔ ان سخت قوانین کے ساتھ ساتھ سخت اسلامی سزاؤں پر بھی عملدرآمد کیا جانے لگا جن میں لوگوں کو سنگسار کرنا اور ہاتھ پاؤں کانٹنے کی سزائیں شامل تھیں۔ طالبان کو سن دو ہزار میں اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا لیکن ملک کو ایک مرتبہ پھر طالبان ملک میں زور پکڑ رہے ہیں۔ انیس سو چھیانے میں بہت سے افغانیوں کے لیئے ان کا ملک یکسر تبدیل ہو گیا تھا۔ طالبان کی طرف سے لائی گئی تبدیلوں سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی تھیں۔ ہزاروں عورتیں پر روزگار سے محروم ہوگئیں، لڑکیوں کے سکولوں کو بند کر دیا گیا اور عورتوں کے سر سے پاؤں تک برقعے کے بغیر سرِ عام آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ روزمرہ کی تفریحات پر بڑے زور شور سے پابندی لگا دی گئی جس کی اسلامی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ طالبان کا افغانستان موسیقی، ٹیلی ویژن اور کسی بھی طرح کی تصویر اور زندگی سے بے رنگ تھا۔
حتٰی کہ کے بچوں کے مقبول ترین مشغلے پتنگ بازی کو بھی غیر اسلامی اور فضول تصور کیا جاتا تھا۔ دو ہزار چھ کا کابل مختلف ہے۔ اسلامی اقدار کا اب بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ یہ اسلام کا مقدس مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور خصوصی عبادات کی جاتیں ہیں۔ میرے ایک دوست نے بتایا کے طالبان اور آج کے کابل میں یہ فرق ہے کہ اگر اس مہینے میں آپ روزہ نہ رکھنا چاہیں تو آپ کو مذہبی پولیس ہر وقت آپ کے پیچھے نہیں لگی ہوئی۔ شہر میں اب روائتی افغان دھنوں کے علاوہ جدید مغربی دھنوں کی گونج بھی ریڈیو پر سنائی دیتی ہے۔ لیکن جدید شہروں کا طرز زندگی ایک خاص طبقے تک محدود ہے۔ ملک میں جاری مسلح کشمکش اور غربت کی وجہ سے بہت سے لوگ اب تک اس طرز زندگی سے محروم ہیں۔ طالبان ملک کے جنوبی حصوں میں سیاسی اور عسکری طور پر ابھر رہے ہیں اور ان کو عوامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔ ان میں صرف وہی لوگ شامل نہیں ہیں جو افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجوں کو ملک پر ہونے والے قبضوں کی تازہ کڑی شمار کرتے ہیں۔ لیکن کابل میں مجھے خوف ملا۔۔ خوف کہ طالبان کے دوبارہ آنے سے وہ سب کچھ ضائع ہو جائے گا جو گزشتہ پانچ سال میں حاصل کیا گیا ہے۔ کابل یونیورسٹی میں زیر تعلیم لڑکیوں سے لے کر ان مزدوروں تک جو کابل کی تعمیراتی صنعت میں روز گار کے متلاشی ہیں اس خوف میں مبتلا ہیں۔ | اسی بارے میں قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی26 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||