BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 September, 2006, 04:55 GMT 09:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی
صدر حامد کرزئی - صدر مشرف
صدر مشرف نے امریکہ جانے سے پہلے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور حامد کرزئی سے ملاقات کی تھی
صدر حامد کرزئی نے ایک بار پھر پاکستان پر تنقید کرتے ہوئی کہا ہے کہ پاکستان آستین کے سانپ پال رہا ہے جو اسے بھی نقصان پہچا سکتے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ سرحد افغانستان کو مسائل درپیش ہیں جن میں سرحد پار سے ہونے والی سرگرمیاں سرِ فہرست ہیں ۔

اس بار میں واشنگٹن سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کا کہنا ہے کہ افغان صدر کا اشارہ پاکستان کی طرف ہے حالانکہ کچھ عرصے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا وہ ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام کچھ نہیں کہیں گے اور اگر کوئی تنازع ہو گا تو اسے بند کمرے میں بیٹھ کر طے کریں گے۔

واضح رہے کہ صدر مشرف نے امریکہ جانے سے پہلے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور حامد کرزئی سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے دوران اس بات توجہ دی گئی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بائس سو کل میٹر لمبی جو سرحد کو محفوظ بنایا جائے۔

اس ملاقات کے باوجود گزشتہ ہفتے کے دوران افغان صدر نے یہاں یہ الزام لاگایا ہے کہ کہ پاکستان سے طالبان آتے ہیں بم دھماکے کرتے ہیں، نیٹو افواج پر حملے کرتے ہیں اور پاکستان چلے جاتے ہیں اور وہاں پناہ لیتے ہیں۔ اس میں پاکستان وہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلیجنس آئی ایس آئی پر بھی الزام لگاتے ہیں۔

انگلیاں اٹھانا بند کریں
 جنرل مشرف کے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے حق میں ہے اور انہوں نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان پر انگلیاں اٹھانا بند کرے

دوسرے طرف جنرل مشرف کے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے حق میں ہے اور انہوں نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان پر انگلیں اٹھانا بند کرے۔

حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان جیسے آستین کے سانپ پال رہا ہے جو کبھی پاکستان کو بھی نقصان دے سکتے ہیں۔

اب صدر بش نے دونوں رہنماؤں کو افطار ڈنر پر بلایا ہے اور امریکہ یہ چاہتا ہے کہ دونوں مل کر کام کریں۔ دونوں رہنما دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں اتحادی ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور دونوں میں اگر مفادات کا ٹکراؤ ہے اسے ختم کرایا جائے۔

اسی بارے میں
جنازے پر بھی خودکش حملہ
12 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد