’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے جو ایک سال کے اندر وزیر اعظم کے عہدے سے استعفٰی دینے کا ارادہ کر چکے ہیں ، لیبر پارٹی کے سالانہ اجلاس سے بطور لیڈر اپنی آخری تقریر میں کہا کہ برطانیہ کے عراق اور افغانستان سے فوجیں واپس بلا لینے سے دنیا کوئی زیادہ محفوظ جگہ نہیں بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور عراق سے فوجیں واپس بلانے کا مطلب میدان چھوڑنا ہو گا جو مستقبل میں دنیا کی سلامتی کے لیئے خطرہ ہو گا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور یہ کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی خلاف جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ ان انتہا پسندوں کے خلاف ہے جن کے اعمال اسلام کی اصل روح کو خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ مغربی اقدار دنیا میں تبدیلی لے کر آئیں تو پھر مغرب کو خود بھی عدل و انصاف کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ بحثیت وزیرا اعظم اپنے بقیہ دور میں وہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ | اسی بارے میں بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس جانے کا وقت بتائیں: بلیئر پر دباؤ06 September, 2006 | آس پاس سال کے اندر عہدہ چھوڑ دوں گا: بلیئر08 September, 2006 | آس پاس بیروت: بلیئر کی آمد پر مظاہرے11 September, 2006 | آس پاس ’بلیئر کا استعفیٰ‘ مانچسٹر مطالبہ 23 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||