بیروت: بلیئر کی آمد پر مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے آخری حصے میں لبنانی حکام سے دوطرفہ بات چیت کی ہے جبکہ ان کی آمد پر بیروت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں غصے میں بھرے مظاہرین نے ٹونی بلیئر کو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے گیارہ سو لبنانی شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بلیئر نے فوری جنگ بندی روکنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کی ترجیح اقوام متحدہ کی قرار داد تھی جو اس کا مسئلے کا حقیقی حل تھا۔ کئی مظاہرین نے ان کے پریس کانفرنس کے دوران چلا کر کہا کہ ’تمہیں شرم آنی چاہیے‘۔ ٹونی بلیئر کی بیروت آمد پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے گئے تھے۔ وہ مقام جہاں ٹونی بلیئر لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کر رہے ہیں، وہاں سے کچھ فاصلے پر تقریبا پانچ ہزار مظاہرین نے جمع ہو کر نعرے لگائے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر درج تھا، قاتل اور جنگی مجرم۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹونی بلیئر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ برطانیہ کے اندرونی معاملات اور عرب دنیا کے حوالے سے ان کی پالیسیاں متنازعہ تھیں تاہم انہوں نے اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والے لبنانی خاندانوں کے اہل خانہ سے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ دوسری طرف فواد سینیورا نے مظاہرین کی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کے عمل کی تعریف کی۔ لبنان کے ایک اہم شیعہ رہنما نے ٹونی بلیئر کے دورے کو ملتوی کروانی کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ بہت سے دوسرے شیعہ حکام نے ٹونی بلیئر کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ ان حکام میں پارلیمان کے سپیکر اور حزب اللہ کے دو وزیر شامل ہیں۔ لبنان میں سینئر شیعہ رہنما آیت اللہ محمد حسین فدا اللہ نے حکومت سے ٹونی بلیئر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ آیت اللہ محمد حسین نے بلیئر کو لبنان جنگ میں اسرائیل کی پشت پناہی کا ذمہ دار ٹھہرایا کیونکہ ان کے بقول بلیئر نے امریکی صدر جارج بش کا ساتھ دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں فلسطین: برطانوی تجویز مسترد11 September, 2006 | آس پاس عباس اولمرٹ سے ملنے پر راضی10 September, 2006 | آس پاس شالیت کے بدلے فلسطینیوں کی رہائی05 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||