فلسطین: برطانوی تجویز مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں حماس کی حکومت نے ملک میں ایک قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دیئے جانے کی برطانوی تجویز کو متعصب اور انصاف سے عاری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے، جو ان دنوں مشرق وسطی کے دورے پر ہیں، تجویز دی تھی کہ فلسطین میں قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی تشکیل سے مغربی ممالک فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ جاری بائیکاٹ ختم کردیں گے۔ مغربی ممالک نے حماس کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد اسے دی جانے والی امداد بند کردی تھی اور اس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ ٹونی بلیئر نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے رملہ اللہ میں ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ تجویز دی تھی۔ دریں اثناء لبنان میں سینئر شیعہ رہنما آیت اللہ محمد حسین فدا اللہ نے حکومت سے ٹونی بلیئر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ آیت اللہ محمد حسین نے بلیئر کو لبنان جنگ میں اسرائیل کی پشت پناہی کا ذمہ دار ٹھہرایا کیونکہ ان کے بقول بلیئر نے امریکی صدر جارج بش کا ساتھ دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ دوسرے طرف ٹونی بلیئر اپنے دورہ مشرق وسطی کے آخری حصے میں اسرائیل اور فلسطین کے بعد اب لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچ گئے ہیں۔ لبنان کے دورے کے دوران وہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس میں حکومت کو مستحکم بنانے اور شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی پر بات کی جائے گی۔ ان کے اس دورے کے خلاف بیروت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ بہت سے لبنانی شہریوں نے جنگ بندی روکنے سے انکار اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی بمباری سے ملک میں تباہی کے لیئے ٹونی بلیئر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ | اسی بارے میں عباس اولمرٹ سے ملنے پر راضی10 September, 2006 | آس پاس شالیت کے بدلے فلسطینیوں کی رہائی05 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||