ستمبر گیارہ تباہی لایا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستمبر گیارہ سن دو ہزار ایک کو امریکہ پر حملے کے بعد جب وہاں قانون نافذ کرنے والےاداروں نے غیر ملکیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو وہاں مقیم مسلمان خصوصاً پاکستانیوں کی بہت بڑی تعدادنےامریکہ سےکینیڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا- ان افراد میں بہت سارے افراد ایسے بھی تھے جن کی امریکہ میں کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی- اس کے علاوہ ایسے افراد بھی کینیڈا آ کر آباد ہوئے جنہوں نے امریکہ میں تمام قانونی حقوق حاصل ہونے کے باوجود امریکہ سے کسی دوسرے ملک منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ کینیڈا کے محکمہ سٹیزن شپ و امیگریشن کے مطابق مارچ سن دو ہزار دو تک کینیڈا میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد گزشتہ کئی سالوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2001 سے 2002 کے اواخر تک امریکہ سے کینیڈا آ کر ریفیوجی کلیم کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو میں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ لہذا امریکہ سے آنے والے ان پناہ گزینوں نے بھی ٹورانٹو کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ بہت سارے افراد نے کینیڈا کے فرانسیسی صوبے کیوبک کے شہر مانٹریال میں بھی اپنے ریفیوجی کلیم داخل کیئے۔ ٹورانٹو کے نواحی شہر مسی ساگا میں، میں نے حسین ملک سے جب ان کی زندگی پر ستمبر گیارہ دو ہزار ایک کے بعد پڑنے والے اثرات کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا ’میں امریکہ کے شہر نیو یارک میں بارہ سال سے مقیم تھا۔ میرے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے مگر پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی- میں ماہانہ تین سے چار ہزار امریکی ڈالر کما رہا تھا- نا جانےنیویار ک کو کس کی نظر لگ گئی کہ ہر چیز ہی الٹ گئی- اب میں نے کینیڈا میں ریفیوجی کیس کیا ہوا ہے اور ابھی تک میرے کیس کا فیصلہ نہیں ہوا ‘۔ حسین کا کہنا ہے کہ’ میں یہاں ایک فیکٹری میں دن رات سخت محنت کر رہا ہوں اور ماہانہ بارہ سے چودہ سو ڈالر کینیڈین کماتا ہوں۔ امریکہ میں میرے پاس اپنی گاڑی تھی اب تو آدھا دن بسوں میں ہی کام پر آتے جاتے گزر جاتا ہے۔میرے بچے پاکستان میں ہیں اور نیویارک سے یہاں آنے کے بعد میں جن مشکلات سے گزرا ہوں وہ میں جانتا ہوں یا میرا رب‘۔
ٹورانٹو شہر کی ڈان ویلی پارک وے کی ساتھ واقع مسلمانوں کی آبادی ہے جسے تھارن کلف پارک یا لوگ ٹورانٹو شہر کا لٹل پاکستان یا عرف عام میں اسلامک ریپبلک آف تھارن کلف کے نام سے بھی پکارتے ہیں- میں نے وہاں کے رہائشی ضیاء الحق سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل سے ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد منتقل ہوۓ ہیں۔ ضیاء امریکہ میں کمپیوٹر کمپنی میں ملازم تھے اور ان کی فیملی بھی ان کے ہمراہ رہائش پذیر تھی- جب نیویارک میں ٹاورز تباہ ہوۓ تو کچھ دنوں بعد ان کی کمپنی نے کئی ملازمین کو فارغ کردیا- ان کا ورک پرمٹ نئی جاب نہ ملنے کی وجہ سے توسیع حاصل نہ کرسکا اور ایک دن امیگریشن کے محکمے نے ان کو ملک چھوڑنے کا پروانہ تھما دیا- اس کے بعد یہ فیملی اپنا سارا کچھ چھوڑ کر کینیڈا آگئی اور یہاں ریفیوجی کلیم کردیا- ان کا کلیم منظور کر لیا گیا اور اب ضیاء ٹورانٹو میں ایک الیکٹرانکس کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں- ضیاء کا کہنا ہے کہ جس نے بھی ستمبر گیارہ کی منصوبہ بندی کی تھی اس کو اس کی سخت سزا ملنی چاہیئے نہ کہ معصوم مسلمانوں کو-ضیاء اپنا امریکہ میں گزارہ وقت شدت سے یاد کرتے ہیں اور کینیڈا میں اس نئی زندگی کو کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں- سکاربورو کے علاقے میں واقع پاکستانیوں کے مرکزطباق ریستوران کے مالک میاں جمیل سے جب میں نے پوچھا کہ ستمبر گیارہ کے بعد انہوں نے کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کی زندگی میں کیا تبدیلی دیکھی ہے تو انہوں نے کہا ’ ھم تو ستمبر گیارہ کے بعد شرمندہ شرمندہ سا محسوس کرتے ہیں۔ میڈیا نے مسلمانوں کے ذمہ دار ہونے کا اتنا پرچار کیا ہے کہ لگتا ہے کہ ہر مسلمان ہی اس واقعہ کا ذمہ دار ہے‘۔ حاجی جمیل نے نیویارک میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ میڈیا میں اپنی آواز بلند کریں اور اپنی کمیونٹی میں اتحادو اتفاق پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد کینیڈا میں بسنے والے افراد کی کڑی نگرانی شروع کردی ہے۔ اس سے کمیونٹی میں ہر وقت خوف و ہراس رہتا ہے۔ مسی ساگا کے ایک اور رہائشی طارق عارفین نے جوٹورانٹو میں کمپوٹر انڈسٹری سے وابستہ ہیں نے کہا ہے کہ’ ستمبر گیارہ کے بعد کینیڈا امریکہ سفر کرنے والے مسلمانوں کا جو حشر امریکی بارڈر پر کیا جاتا ہے وہ انتہائی ناقابل قبول ہے۔کینیڈا کا پاسپورٹ ہونے کے باوجود کئی گھنٹے بارڈر پر بے جا تنگ کیا جاتا ہے اور خصوصاً پاکستانیوں کی تو سر سے پاؤں تک تلاشی لی جاتی ہے‘۔ طارق نے بتایا کہ ان کے کئی رشتہ دار امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کو کسی خوشی یا غمی میں ملنے کے لۓ جانا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور عنصر محمود چودھری سے میری ملاقات ٹورانٹو ڈاؤن ٹاؤن میں واقع سب سے بڑے ریلوے سٹیشن ’یونین سٹیشن‘ کے سامنے ہوئی تو میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ امریکہ میں بھی لیموزین چلاتا تھےاور لاًنگ آئی لینڈ میں رھائش پذیر تھے- عنصر محمود نے کہا کہ کاش امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات نہ ہوئے ہوتے تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ ’ٹیکسی میں کئی لوگ ہمارا نام پڑھ کر سفر کرنے سے انکار کردیتے ہیں تو دل کو بڑی تکلیف ہوتی ہے‘۔ کینیڈا میں مشہور کافی شاپ ٹم ہارٹن میں ملازم سید عامر رضا کا کہنا ہے کہ ’امریکہ سے کینیڈا آ کر پناہ لینے والوں کو دوسروں کی بجائے اپنوں یعنی دیسی وکیلوں نے بہت ذلیل کیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ سے افراتفری میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کینیڈا آنے والے بہت سے افراد کے کیس مسترد ہوگۓ تھے جس کی اہم وجہ وکیل تھے۔ ان وکیلوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے کلرکوں اور دوسرے کنسلٹنٹوں نے پاکستانی لوگوں کو خوب لوٹا ہے- ان کی وجہ سے کئی خاندان کینیڈا سے ڈیپورٹ کردیئے گئے‘- | اسی بارے میں نائن الیون: پاکستان میں بدلتی صورتحال11 September, 2006 | پاکستان نائيں ون ون امریکہ اور پاکستانی11 September, 2006 | قلم اور کالم مسلمانوں کے لیئے امتحان کا دور11 September, 2006 | انڈیا 9/11: سعودی عرب میں تبدیلی کا آغاز11 September, 2006 | آس پاس 9/11: پاکستانی شہری امیر ہو گئے11 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||