مسلمانوں کے لیئے امتحان کا دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان دنیا کے ان چند ملکوں میں ہے جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔یہاں تقریباً پندرہ کروڑ مسلمان ہیں اور وہ بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح گیارہ ستمبر کے منفی اثرات کی زد میں آئے ہیں۔ یوں تو ہندوستان کشمیر سے قبل شمال مشرقی ریاستوں میں شدت پسندی اور ماؤ نواز باغیوں کی انتہا پسندی سے ایک عرصے سے آشنا رہا ہے لیکن گزشتہ چـند برسوں میں ملک میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات مسلمانوں سے منسوب رہے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد ہندوستان میں کشمیر اسمبلی اور ملک کی پارلیمنٹ پر حملے کیے گئے۔ بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں حملے کا نشانہ واضح طور پر ہندوؤں کو بنایا گیا ہے۔ ان میں ٹرینوں کے مخصوص ڈبوں میں دھماکے ، احمدآباد کے اکشر دھام مندر اور بنارس کے سنکٹ موچن مندر پر بم حملے شامل ہیں۔ گزشتہ برس ہندوؤں کے بڑے تہوار دیوالی سے ایک روز قبل دلی کے مصروف بازاروں میں خونریزی بھی اسی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات اور گیارہ ستمبر کے نیو یارک کے حملے نےمسلمانوں کی شبیہ بری طرح مجروح کی ہے۔ہندوستان میں آج مسلمان شک کے محاصرے میں ہے۔ ممبئی اور دلی جیسے بڑے شہروں میں ہندو آبادی والے علاقوں میں لوگ اب مسلمانوں کے ہاتھوں مکان فروخت کرنے یا کرائے پر دینے میں ہچکچاتے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف دہشت گردی کی قیمت مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ادا کرنی پڑی ہے تو دوسری جانب ممبئی اور گجرات کے فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کی ہلاکت کے لیئے ایک شخص کو بھی سزا نہ دیئے جانے سے مسلم برادری مزید پستی اور شکستگی کے احساس سے گزر رہی ہے ۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ نے سلامتی کے نام پر جس طرح کے اقدامات کیے ہیں ان سے ہندوستان نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ حقوق انسا نی کی تنظیمیں اور مسلمان شکایت کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے کسی واقعہ کی صورت میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، انہیں بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جاتا ہے، لوگوں کی مذہبی بنیادوں پر تذلیل کی جاتی ہے اور اکثر اذیتیں دی جاتی ہیں۔ اقلیتی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا عموماً مسلمانوں کی منفی خبریں ہی پیش کرتا ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد سلامتی کے بعض ماہرین اور ہندو دانشوروں کی طرف سے یہ تجاویز کھل کر سامنے آئیں کہ اسرائیل کے طرز پر ہندوستان کی سکیورٹی افواج کو بھی ان افراد کے مکانوں کو تباہ کر دینا چاہیئے جو دہشت گرد کارروائیوں میں شامل ہوں یا جن پر تخریبی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا شک ہو۔ گیارہ ستمبر کے واقعہ کا ایک مثبت پہلو یہ رہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں ہندوستانی مسلمانوں میں دلچسپی بڑھی ہے۔دلچـسپی کی وجہ یہ رہی ہے کہ ہندوستانی مسلمان ابھی تک دہشت گردی کے کسی اہم بین الاقوامی معاملے میں ملوث نہیں پائے گئے ہیں۔ یہی نہیں کشمیر کے تنازعے کے سلسلے میں بھی اس کا رویہ ملک کے دیگر شہریوں کا سا رہا ہے۔ اسے وہ جمہوریت سے تعبیر کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برس ہندوستان کے مسلمانوں پر کافی بھاری گزرے ہیں۔گزشتہ مہینے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کے علماء دلی میں جمع ہوئے۔ انہوں نے دہشت گردی کی ہر شکل میں خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیئے ہو مذمت کی اور اسے اسلام کی روح کے منافی قرار دیا۔ علماء نےحکومت پر یہ واضح کر دیا کہ اسلام کو دہشت گردی سے منسوب نہ کیا جائے کیونکہ اسلام، بقول ان کے، بے قصوروں کی ہلاکت کو کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کا مسلمان اس وقت شدید دباؤ سے گزر رہا ہے۔دانشوروں کا کہنا ہے کہ ملکوں اور قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار آتے ہیں جب انہیں امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔شاید مسلم برادری بھی ایسے ہی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ | اسی بارے میں علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا مسلمانوں کے لیے قانون غیر آئینی07 November, 2005 | انڈیا یوپی میں مسلمانوں کا نیا سیاسی اتحاد 05 July, 2006 | انڈیا ’مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘18 August, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا 9/11 اور پاکستان، انڈیا اور کشمیر 10 September, 2006 | انڈیا حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے10 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||