9/11: پاکستانی شہری امیر ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے بعد شروع ہونے والا دور پاکستان میں شہری دولت میں زبردست اضافہ کا دور کہا جاسکتا ہے۔ پانچ سال پہلے پاکستان اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا۔ اس کے خزانہ میں بین الاقوامی تجارت کے لیئے زر مبادلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ سٹاک مارکیٹ مندے کا شکار تھی، تعلیم یافتہ ہنر مند لوگ ملک چھوڑ کر مغرب کا رخ کر رہے تھے۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا بازار گرم تھا۔ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کو امریکہ پر حملے ہوئے۔ پاکستان امریکی اتحاد میں شامل ہوا اور منفی اشاریے مثبت میں بدلنے لگے۔ امریکہ اور یورپ سے اربوں ڈالر کی مالی امداد ملنے لگی، بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے آنے لگے۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہلاکتیں کم ہوئیں۔ متوسط طبقہ کا حجم اور خوشحالی بڑھی لیکن امریکہ اور مغرب کی مخالفت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ پانچ سال پہلے لاہور کے جوہر ٹاؤن کو جوہڑ ٹاؤن کا لقب دیا جاتا تھا جہاں ایک کنال کا پلاٹ بیس لاکھ روپے میں دستیاب تھا اور خریدار نہیں ملتے تھے۔ آج وہی پلاٹ اسی لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے مالیت کا ہے۔ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ کے چار فیز تھے۔ آج نو فیز ہیں۔ یوں لگتا ہے لاہور اور کراچی میں جنات آگئے ہیں جنہوں نے شہری زمین ایسے خریدی ہے جیسے اسکول کے بچے تفریح کے وقفے میں سنیکس خریدتے ہیں۔ چار برسوں میں لاہور اور کراچی میں شہری جائیداد کی قیمتوں میں پانچ سو سے ایک ہزار فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
جن غریب کسانوں کے پاس شہر کے ارد گرد زرعی زمین کے چند ایکڑ تھے اور وہ بمشکل دو وقت کی روٹی پانی کا بندوبست کرتے تھے۔ ان برسوں میں وہ چند ایکڑ لاکھوں روپے کی مالیت سے بڑھ کر کروڑوں روپے مالیت کے ہوگئے۔ انہوں نے یہ چند ایکڑ بیچے اور بڑی بڑی گاڑیاں خریدیں یا گرد و نواح جیسے قصور، شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں جا کر مربعے خرید لیئے۔ روپے کی جیسی ریل پیل پاکستانیوں نے ان چار پانچ برسوں میں دیکھی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ستر کے اواخر سے اسی کی دہائی تک مشرق وسطی جاکر کمانے والوں کے بھیجے ہوئے پیسوں سے خوشحالی کی ایک بڑی لہر آئی تھی جسے سے پنجاب کے کم سے کم پچاس لاکھ خاندان فیضیاب ہوئے تھے۔ دولت کی دوسری بڑی لہر نو گیارہ کے بعد آئی ہے جو اس اعتبار سے اہم ہے کہ پہلی لہر نے تو نچلا متوسط طبقہ پیدا کیا تھا جبکہ موجودہ ریل پیل نے صحیح معنوں میں خوشحال متوسط طبقہ کو جنم دیا ہے۔ اس عرصہ میں لاہور میں بنکوں کی درجنوں شاخیں نمودار ہوئیں۔ خاموش مہنگے رہائشی علاقے جیسے اپر مال، ماڈل ٹاؤن، گلبرگ مین بلیوارڈ اب بنکوں کے مراکز بن چکے ہیں۔ ڈیفنس چلے جائیں تو ریٹائرڈ فوجی روپے کے بنڈل تھامے بنکوں میں اس طرح نظر آئیں گے جیسے کوئی سبزی کی پر ہجوم دکان پر پالک اور دھنیے کی گڈیاں پکڑے ہو۔ یہ پلاٹوں کی فائلوں کے پیسے ہیں۔ اکثر لین دین نقدی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس پراپرٹی کے کاروبار کے عروج کے پیچھے بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے پیسوں کا کمال ہے۔ نو گیارہ کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا، ان میں عدم تحفظ بڑھا اور انہوں نے اپنی بچتوں کا ایک حصہ پاکستان کے بڑے شہروں میں زمین اور جائیداد خریدنے پر صرف کرنا شروع کر دیا کہ کوئی برا وقت آیا تو یہاں کچھ تو محفوظ ہوگا۔ سنہ دو ہزار ایک میں پاکستان میں بیرون ملک سے بھیجے جانی والی رقوم کی مالیت ایک ارب ڈالر ہوا کرتی تھی جو ایک دو برسوں میں بڑھ کر چار ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ یہ مالیت اسی کی دہائی میں عرب ملکوں سے بھیجی جانے والی رقوم سے بھی زیادہ ہے۔ یوں پانچ برسوں میں پاکستان کو بیرون ملک مقیم شہریوں کے ذریعے کم سے کم چودہ پندرہ ارب ڈالر یا آٹھ نو سو ارب روپے معمول سے زیادہ حاصل ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ منی لانڈرنگ پر سختی کی وجہ سے لوگوں نے بنکوں کی بجائے غیر قانونی طریقے سے رقوم بھیجنے کی بجائے بنکوں کے ذریعے اپنے پیسے بھیجنے شروع کیے۔ یہی وہ دولت ہے جس سے پاکستان کی شہری جائداد، اسٹاک مارکٹ اور بنک مالا مال ہوئے ہیں۔ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر دو ہزار ایک میں ایک ارب ڈالر تھے۔ امریکی اتحاد میں شامل ہوتے ہی سوا چار ارب ڈالر ہوئے۔ آج بارہ ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔
تارکین وطن کے پیسوں اور امریکہ سے اتحاد کے بدلے ملنے والی امداد کے نتیجہ میں پاکستانی روپیہ جسے انیس سو اٹھانوے کے ایٹمی تجربات کے بعد مسلسل زوال کا سامنا تھا چار سال ہوگئے اپنی جگہ پر کم و بیش مستحکم ہے۔ اڑسٹھ روپے فی ڈالر تک چلے جانے والا روپیہ اس وقت سے ساٹھ سے اکسٹھ روپے فی ڈالر کے گرد گھوم رہا ہے۔ نو گیارہ سے پہلے کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ کراچی اسٹاک مارکٹ جو ایک ہزار کے انڈکس پر رُوں رُوں کرتی رہتی تھی چند ہی برسوں میں دس ہزار پوائینٹس سے بھی آگے نکل جائے گی۔ جس مارکٹ کی خبر ٹیلی وژن پر سب سے آخر میں جلدی جلدی ایک منٹ میں پڑھی جاتی تھی اس کے لیے راتوں رات ٹیلی وژن چینلوں پر کئی گھنٹے مخصوص ہوگئے۔ نو گیارہ کے بعد پاکستان میں پیسے کی فراوانی سے ایک نئے متوسط طبقہ نے جنم لیا ہے۔ ہر ہفتہ محکمہ ایکسائز کاروں کی رجسٹریشن کے لیئے ایک نئی نمبر سیریز کا اعلان کرتا ہے۔ لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں کی سڑکیں کشادہ کی گئی ہیں۔ انڈر پاس بنائے گئے ہیں پھر بھی سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں پھنس پھنس کر چلتی نظر آتی ہیں۔ آج پاکستان کے شہروں میں پرانی گاڑیوں کی جگہ نئی ٹیوٹا، مٹسوبشی، بی ایم ڈبلیو، مرکس اور لیکسز کاریں دوڑ رہی ہیں۔ ان برسو ں میں کریڈٹ کارڈز کا رواج عام ہوا ہے۔ آج ملک میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ موبائل فون استعمال کررہے ہیں جن کی تعداد پہلے لاکھوں میں تھی۔ واپڈا کے چئیرمین کا کہنا ہے کہ ملک میں واشنگ مشینوں، فریجوں اور ائیر کنڈیشنروں کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا جس سے بجلی کی مانگ ایک دم توقع سے بڑھ گئی ہے۔ بنکوں کے کاروبار پھیلنے سے نچلے متوسط طبقہ کے بے روزگار لوگوں کو ملازمتیں ملی ہیں۔ کنسٹرکشن کا کاروبار پھیلنے سے مزدوری کے مواقع بڑھے ہیں۔ حکومتی ترقیاتی بجٹ میں زیادہ رقوم خرچ ہونے سے کاروبار میں توسیع ہوئی ہے۔
تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ نو گیارہ سے آنے والی دولت کی لہر نے زراعت اور دیہی علاقوں کی خوشحالی میں کوئی اضافہ ہوا ہے۔ دیہات اور قصبوں میں زمین کی قیمتوں میں کم سے کم کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ نہ حکومت نے کسانوں کے لیئے بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کی جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ دیہات میں اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعداد میں بھی کوئی بڑی واضح تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ گیارہ ستمبر سے پہلے پاکستان کے تعلیم یافتہ متوسط طبقہ کے افراد معاشی بدحالی اور پر تشدد ماحول کی وجہ سے بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر جارہے تھے جسے ’برین ڈرین‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان واقعات کے بعد اس رجحان میں میں کمی آئی ہے جس کی دو وجوہ بیان کی جاسکتی ہیں۔ ایک تو افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کم ہوا۔ دوسرے امریکہ اور یورپ میں مسلمان تارکین وطن کو قبول کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعات نے پاکستان کے بڑے شہری علاقوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان واقعات کے نتیجہ میں باہر سے آنے والی دولت اور تعلیم یافتہ طبقہ کے ملک نہ چھوڑنے کے رجحان میں کمی کے اثرات شہروں میں ہی زیادہ واضح نظر آتے ہیں۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ نو گیارہ کے بعد پاکستان کو مغربی ملکوں سے قرضوں اور عطیات کی صورت میں اربوں ڈالر ملے اور متوسط طبقہ پر ہُن برسا اس کے باوجود ملک میں امریکہ اور مغرب کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں اور حال ہی میں لبنان پر اسرائیلی حملہ کے بعد اب عوامی سطح پر امریکہ اور مغرب کی حمایت ڈھونڈنا مشکل کام ہے۔ لوگ کوک پییپسی پیتے ہیں، کے ایف سی، میکڈونلڈ کھاتے ہیں، جینز اور نائیکی پہنتے ہیں، ہالی وڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں لیکن سیاسی معاملہ آئے تو امریکہ کے لیئے کلمہء خیر نہیں کہتے۔ | اسی بارے میں لاہور میں ورلڈ آرٹ فیسٹیول کی تیاریاں13 November, 2004 | پاکستان یٹیوں کا قتل ، غربت یا شک28 July, 2004 | پاکستان لاہور: سُندر مندر ڈھا دیا گیا16 June, 2006 | پاکستان لاہور میں شمشان گھاٹ تعمیر28 June, 2006 | پاکستان لاہور میں بارش، چھ ہلاک 25 July, 2006 | پاکستان لاہور کی مخدوش و جان لیوا عمارتیں26 August, 2006 | پاکستان لاہور: لبرٹی مارکیٹ میں دھماکہ29 August, 2006 | پاکستان لاہور میں جلے ہوؤں کے لیے ہسپتال04 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||