لاہور میں شمشان گھاٹ تعمیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں سکھوں کے مُردوں کی آخری رسوم کی ادائیگی کے لیئے شمشان گھاٹ تعمیر ہو گئی ہے اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے مطابق ہندؤوں کے شمشان گھاٹ کے لیئے مختص جگہ پر جلد تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر نے بدھ کی صبح صحافیوں کے ساتھ سکھوں کے شمشان گھاٹ کا افتتاح کرنا تھا لیکن شہر میں شدید بارش کے سبب وہاں نہیں جاسکے۔ یہ شمشان گھاٹ بند روڈ اور موٹروے کے سنگم پر دریائے راوی سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر بابو صابو کے علاقہ میں بنایا گیا ہے۔ سکھوں کے شمشان گھاٹ کی جگہ پر ایک چار دیواری بنا دی گئی ہے اور ایک کتبہ نصب کردیا گیا ہے۔ ہندؤوں کے شمشان گھاٹ کا کتبہ تو لگادیا گیا ہے لیکن چار دیواری ابھی تعمیر ہونا ہے۔ اعجاز الحق نے بدھ کے دن صحافیوں کے ساتھ لاہور میں ہندؤوں کے واحد پوجا کے لیئے زیر استعمال مندر کا دورہ بھی کیا جو ان کا اس مہینہ میں اس کا دوسرا دورہ تھا۔ کرشنا مندر راوی روڈ پر بند روڈ کے قریب واقع ہے۔ سادہ سی نئی بنی ہوئی عمارت میں واقع یہ مندر عام طور پر دن میں بند رہتا ہے اور شام کو کھولا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہندؤوں کے پانچ مندر ہیں اور وہ جس مندر میں پوجا کرنا چاہیں حکومت اس کے لیئے سہولتیں دے گی۔ انہوں نے شہر میں کسی مندر کوگرائے جانے کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرون شہر میں جس جگہ پلازہ بنایا جارہا ہے وہاں پہلے رہائشی عمارت تھی جبکہ مندر کچھ فاصلہ پر تھا جو اب بھی موجود ہے۔
لاہور میں خاص طور پر اندرون شہر، اور اس کے اردگرد درجنوں مندر ہیں لیکن غیر آباد پڑے ہیں۔ ڈی بلاک ماڈل ٹاؤن میں بھی ایک غیر آباد خوبصورت مندر ہے جس کو محفوظ کرنے کے لیئے اس کے ارد گرد چار دیواری بنا دی گئی ہے۔ انیس سو بانوے میں بھارت کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد لاہور میں مشتعل ہجوم نے کئی مندروں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اسی لاکھ آبادی کے لاہور شہر میں ہندؤوں اور سکھوں کی بہت ہی کم آبادی ہے جس کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ لاہور میں زیادہ تر ہندؤوں کا تعلق بالمیکی مسلک سے ہے جو شاہ عالمی دروازہ، اندرون بھاٹی گیٹ اور ٹکسالی گیٹ جیسے علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہندؤوں کی نوجوان نسل کے اکثر لوگ عیسائی مذہب اختیار کرچکے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کرشنا مندر کے بار بار دورے اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کی سرکاری تشھیر لاہور میں ہندو اقلیت کے وجود کا پہلا سرکاری اعتراف کہا جا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں یاتری اپنےآبائی گھر بھی دیکھیں گے08 June, 2005 | پاکستان قبائلیوں نے سکھ کو رہا کرا لیا 11 June, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||