قبائلیوں نے سکھ کو رہا کرا لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں چھ ماہ قبل اغوا کئے گئے ایک سکھ لڑکے کو قبائلیوں کی ایک مقامی تنظیم نے برآمد کرا لیا ہے۔ دسویں جماعت کے گُرجیت سنگھ کو جس کا تعلق خیبر ایجنسی کے ہی باڑہ علاقے سے ہے چھ ماہ قبل اس کے سکول سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اغوا کاروں نے بعد میں اسے دورا دراز تیراہ کے پہاڑی علاقے منتقل کر دیا تھا اور اس کے والدین سے رہائی کے بدلے بڑی رقم کا تقاضہ کیا۔ رہائی کے بعد گرجیت سنگھ نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ اغوا کاروں نے اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا جبکہ اس کے سر کے بال بھی منڈھوا دیے گئے جوکہ اس کے مذہب میں منع ہے۔ اس نے جنسی تشدد کی شکایت بھی کی ہے۔ اغوا کار اطلاعات کے مطابق تاون کے علاوہ اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ خیبر ایجنسی کی مقامی انتظامیہ نے اس سکھ لڑکے کی رہائی کے لئے مقامی تنظیم اتحاد علماء سے رجوع کیا۔ تنظیم نے اس درخواست پر تیراہ ایک مسلح لشکر روانہ کیا جس نے چار روز تک اغوا کاروں کا محاصرہ کر کے انہیں لڑکے کو بل آخر رہا کرنے پر مجبور کر دیا۔ لشکر کے اراکین کے مطابق اس کارروائی کے دوران ان پر گولی بھی چلائی گئی تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ باڑہ کی سکھ برادری نے اس رہائی پر تنظیم اتحاد علماء کا شکریہ ادا کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||