یاتری اپنےآبائی گھر بھی دیکھیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے ساڑھے آٹھ سو سے زائد سکھ یاتری گرو ارجن دیو جی کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے واہگہ کے راستے لاہور پہنچ گئےہیں۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو مذہبی یاترا کے علاوہ ان علاقوں میں بھی جانا چاہتے ہیں جہاں سے ان کے اباؤ اجداد کا تعلق تھا۔ سکھ یاتری بذریعہ ٹرین بدھ کی دوپہر سرحدی ریلوے سٹیشن واہگہ پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ریلوے سٹیشن میں ان کے لیےاستقبالی بینر لگے تھے جن پر گورمکھی اور انگریزی میں خیر مقدمی کلمات لکھے گئے تھے۔
یاتریوں کے لیے گرو کے لنگر کا بندوبست بھی تھا اور ایک ڈسپنسری بھی تھی۔ دہلی کی رہائشی اور بھارتی سپریم کورٹ میں ملازم پشپا رام دیو پہلی بار پاکستان آئی ہیں ان کا کہنا تھا کہ’ پاکستان میں پیار کا اظہار دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا پورا جتھہ پاکستان سے خوش لوٹےگا۔ دس روزہ دورے پر آئے ان سکھ یاتریوں میں شامل ایک گھریلو خاتون مہندر کور کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو میں اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہوں لیکن پاکستان اتنا اچھا لگا کہ اگلی بار میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لاؤں گی‘۔انہوں نے کہا کہ ’اب ہمارے آپ کے سمبندھ(تعلقات) اچھے ہو رہے ہیں‘۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یاتریوں کا یہ گروپ لاہور میں چودہ سے سولہ جون تک گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں گرو ارجن دیو جی کی برسی کی تین روزہ تقریبات میں شرکت کرے گا۔ اس کے علاوہ ان کے طے شدہ پروگرام میں گردوارہ جنم استھان، ننکانہ صاحب اور حسن ابدال کے گردوارہ پنجہ صاحب کا مجموعی طور پر پانچ روز کا دورہ اور دیگر مذہبی مقامات کی یاترا بھی شامل ہے لیکن ایک عرصے کے بعد پاکستان آنے والے سکھ کچھ اور جگہوں کے نجی دورے کی خواہش رکھتے ہیں۔ خود مہندر کور کا کہنا ہے کہ ’میں رہتی تو بھارت میں ہوں لیکن میری پیدائش راولپنڈی کے نواحی قصبے عثمان کھٹر کی ہے اور خواہش ہے کہ میں وہ ضرور دیکھوں۔‘ گورداس پور کے نوجوان یاتری سکھوندر سنگھ کے رشتہ دار فیصل آباد میں رہتے ہیں ان سے ملنے کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ وہ نارووال شہر کے نزدیک واقع بدو ملہی میں اپنے اباؤ اجداد کے گاؤں اور وہ مکان دیکھنے جائیں گے جہاں ان کے والد پیدا ہوئے تھے۔ لاہور کے ریلوےسٹیشن پر استقبال کے لیے آئے متروکہ وقف املاک بورڈ کے چئیرمین (ر) لفیٹنٹ جنرل ذوالفقار علی خان نے بتایا کہ تقریبات میں شرکت کرنے والے یاتریوں کی مجموعی تعداد تین ہزار ہے جن میں کچھ دیگر ممالک سے آئیں گے اور باقی مقامی سکھ ہونگے۔ یہ سکھ یاتری لاہور کے واہگہ سٹیشن سے بسوں کے ذریعے ننکانہ صاحب پہنچ گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||