سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیساکھی کے میلے میں شرکت کے لیے بھارت سے ہزاروں سکھ یاتری خصوصی ٹرینوں کے ذریعے لاہور سے ہوتے ہوئے حسن ابدال پہنچ گئے ہیں۔ سکھوں کی بھارت سے آمد دوپہر کو شروع ہوئی جب چوبیس بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں سوار اڑھائی ہزار کے قریب سکھ یاتری واہگہ کے راستے لاہور پہنچے۔ ان یاتریوں میں ایک ہزار چھ سو اٹھاون مرد اور آٹھ سوپندرہ عورتیں شامل ہیں۔ ان سکھ یاتریوں کا استقبال لاہور میں پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار مستان سنگھ اور متروکہ وقف املاک کے چیئرمین لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ذوالفقار علی خان نے کیا۔ سکھ یاتریوں کو پھولوں کے ہار پہنائےگئے اور ان کی تواضع حلوہ پوری، سبزی اور چاولوں سے کی گئی۔ بعد ازاں ان سکھ یاتریوں کو دو الگ الگ ٹرینوں میں حسن ابدال کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ رات گئے بھارت سے آنے والی تیسری ٹرین بھی امیگریشن اور دیگر کارروائیوں کے بعد رات کو ہی حسن ابدال کے گردوارہ پنجہ صاحب کے لیے روانہ کر دی گئی۔ کچھ سکھ یاتری بذریعہ ہوائی جہاز بھی دہلی سے لاہور پہنچے۔ اس کے علاوہ امریکہ ، برطانیہ ،کینیڈا اور افغانستان سمیت مختلف ممالک سے سکھوں کی بڑی تعداد لاہور پہنچ رہی ہے۔ نہرو، لیاقت معاہدے میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بیساکھی کے موقع پرہرسال پاکستان میں تین ہزار سکھ یاتریوں کو آنے کی اجازت دی جائے گی لیکن اس بار پاکستان ہائی کمیشن نے چار ہزار سے زائد سکھوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی ہے۔ حالانکہ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کئی سال ایسے بھی گذرے جب ایک بھی ویزہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ بیساکھی کا تین روزہ میلہ بارہ سے چودہ اپریل تک جاری رہے گا۔ چودہ اپریل کو اختتامی تقریب کے موقع پر پرشاد بانٹا جائے گا اور سروپا یعنی سکھوں کی مذہبی پگڑی تقسیم کی جائےگی۔ پندرہ تاریخ کو تمام یاتری ننکانہ صاحب پہنچ جائیں گے دو روز وہاں قیام کے بعد سترہ اپریل کو لاہور آئیں گے اور مختلف گردواروں کی زیارت کے علاوہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مڑھی پر حاضری دیں گے۔ سکھ یاتری دس روزہ قیام کے بعد بیس اپریل کو واپس بھارت چلے جائیں گے۔ اس بار بیساکھی پر آنےوالا سب سے بڑا جتھے امرتسر شرومنی گردوراہ پربندھک کمیٹی کی ایگزیکٹو ممبر کرن جوت کور نے مطالبہ کیا کہ یاتریوں کو دہلی سے ویزے دینے کی بجائے واہگہ کے باڈر پر ویزے جاری کرنے چاہیئیں اور یہ ویزے طویل المدت ہونے چاہیئیں۔ جموں سے آنے والے ایک جتھے کے سربراہ جوبندر سنگھ نے مطالبہ کیا کہ جس طرح کشمیر کا باڈر کھولاگیا ہے اسی طرح سچیت نگر اور سیالکوٹ کا باڈر بھی کھولا جائے۔ ایک سکھ نے کہا کہ انہیں پاکستان پہنچ کر اتنا پیار ملا ہے کہ ان کا دل خوشی میں اندر سے کھل اٹھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||