بیساکھی میلہ، بچھڑے ساتھی کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیساکھی کا تہوار منانے کےلیئے پاکستان پہنچنے والے پونے چار ہزار سکھ یاتریوں میں بہتر برس کے جوگندر سنگھ کاہلوں بھی شامل ہیں جو اپنی اس بچپن کی دوست کی تلاش میں ہیں جو تقسیم ہند کے موقع پر بچھڑ کر پاکستان میں رہ گئی تھیں۔ جوگند سنگھ منگل کے روز بھارت سے آنے والی اس دوسری ٹرین میں سوار تھے جو ایک ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کو لے کر واہگہ کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی تھی۔ جوگندر سنگھ تقسیم ہند سے پہلے شکر گڑھ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ جب انہیں یہاں سے ہجرت کرنی پڑی تو اپنے آبائی گاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز و اقارب کا ساتھ بھی چھوٹ گیا۔ انہیں میں رشید اور زرینہ بھی شامل تھے۔ جوگندر سنگھ نے بتایا کہ وہ اور زرینہ کم سن تھے۔ زرینہ کے والد کی اراضی پر ان کے والد کاشتکاری کیا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں سکول کی تیسری جماعت میں ساتھ پڑھتے تھے۔ ان کے بقول دونوں میں خوب دوستی تھی کیلن تقسیم ہند نے انہیں جدا کردیا۔ ان کے پاس پنجابی کے گرومکھی رسم الخط میں لکھا ایک خط بھی تھا جو ان کے بقول انہوں نے ہجرت کے بعد اپنے دوست رشید کے والد کو لکھا۔ ٹرین کےڈبے میں بیٹھے بیٹھے انہوں نے وہ خط پڑھ کر سنایا جس سے ڈبے کے دیگر سکھ یاتری بھی محظوظ ہوئے۔
اے شہد نالوں مٹھی ترجمہ: جوگندر سنگھ نے اپنی جیب سے ایک رومال بھی نکال کر دکھایا اور کہا کہ یہ زرینہ کا رومال ہے۔ خود جوگندر سنگھ کی بیوی ایک سال پہلے فوت ہوچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوی کی ووفات کے بعد انہیں زرینہ شدت سے یاد آنے لگی ہے۔
جوگندر سنگھ ان اڑتالیس سو سکھ یاتریوں میں شامل ہیں جو چودہ اپریل کو گردوراہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں ہونے والے بیساکھی کے میلے میں شرکت کریں گے۔ اس میلے میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری شرکت کریں گےجبکہ ہندوستانی سکھ ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان کی زیارت اور لاہورمیں تین روز کے قیام کے بعد انڈیا لوٹ جائیں گے۔ لیکن ہر سال کی طرح پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں میں ایسے سکھ بھی شامل ہیں جنہیں ہجرت کے بعد پہلی بار پاکستانی پنجاب آنے کا موقع ملا ہے اوروہ اس موقع پر اپنے آبائی علاقوں میں جاکر بچھڑے دوستوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ جوگندر سنگھ کے پاس زرینہ کی نشانی ایک زرد رومال تو ہے لیکن اب وہ اپنے گاؤں کا پتہ بھی بھول چکے ہیں اور انہیں کچھ پتہ نہیں کہ زرینہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں امرتسر- لاہور، بس سروس مذاکرات 27 September, 2005 | انڈیا ایل او سی کا ’فلاپ ڈرامہ‘12 November, 2005 | انڈیا ’ سکیورٹی میں نرمی کر دیں گے‘17 January, 2006 | انڈیا جسونت سنگھ کی بھارت واپسی 07 February, 2006 | انڈیا سرینگر-مظفر آباد: مشکلوں کی بس07 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||