BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیساکھی میلہ، بچھڑے ساتھی کی تلاش

بہترّ سالہ جوگندر
جوگندر سنگھ پاکستان آنے والے اڑتالیس سو سکھ یاتریوں میں شامل ہیں
بیساکھی کا تہوار منانے کےلیئے پاکستان پہنچنے والے پونے چار ہزار سکھ یاتریوں میں بہتر برس کے جوگندر سنگھ کاہلوں بھی شامل ہیں جو اپنی اس بچپن کی دوست کی تلاش میں ہیں جو تقسیم ہند کے موقع پر بچھڑ کر پاکستان میں رہ گئی تھیں۔

جوگند سنگھ منگل کے روز بھارت سے آنے والی اس دوسری ٹرین میں سوار تھے جو ایک ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کو لے کر واہگہ کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی تھی۔

جوگندر سنگھ تقسیم ہند سے پہلے شکر گڑھ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ جب انہیں یہاں سے ہجرت کرنی پڑی تو اپنے آبائی گاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز و اقارب کا ساتھ بھی چھوٹ گیا۔ انہیں میں رشید اور زرینہ بھی شامل تھے۔

جوگندر سنگھ نے بتایا کہ وہ اور زرینہ کم سن تھے۔ زرینہ کے والد کی اراضی پر ان کے والد کاشتکاری کیا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں سکول کی تیسری جماعت میں ساتھ پڑھتے تھے۔

ان کے بقول دونوں میں خوب دوستی تھی کیلن تقسیم ہند نے انہیں جدا کردیا۔

ان کے پاس پنجابی کے گرومکھی رسم الخط میں لکھا ایک خط بھی تھا جو ان کے بقول انہوں نے ہجرت کے بعد اپنے دوست رشید کے والد کو لکھا۔

ٹرین کےڈبے میں بیٹھے بیٹھے انہوں نے وہ خط پڑھ کر سنایا جس سے ڈبے کے دیگر سکھ یاتری بھی محظوظ ہوئے۔

بیساکھی کے تہوار پر پاکستان آنے والے یاتری

اے شہد نالوں مٹھی
میں لکھ رھیا ہاں چٹھی
شیدے بارے پونچھداہاں ،کیہ اس دا حال اے
زرینہ نوں کہنا میں سا نبھ کے رکھیا اہدا رومال اے
جدوں آیا میں لے آواں گا نال
تہاڈا شیدا اوہی اے، ساڈا باگا اوہی اے
موتی ہی نکھڑے نیں، پر دھاگا اوہی اے
صرف مل نہیں سکدے پر ایہہ واہگہ اوہی اے

ترجمہ:
(میں ایک خط لکھ رہا ہوں جس کی تحریر شہد سے زیادہ شیریں ہے
میں رشید کا حال احوال جاننا چاہتا ہوں
اور ہاں مجھے زرینہ سے کہنا ہے کہ میں نےاس کا رومال سنبھال کر رکھا ہواہے
جب بھی آیا ساتھ لیتا آؤں گا
تمہارا رشید وہی ہے نا جو پہلے تھا،ہمارا باغ سنگھ بھی ویسا ہی ہے
کیونکہ موتی بکھر جانے کے باوجود موتیوں کا دھاگا تو نہیں ٹوٹا
واہگہ آج بھی وہی واہگہ ہے
فرق یہ ہے کہ اب ہم مل نہیں سکتے )

جوگندر سنگھ نے اپنی جیب سے ایک رومال بھی نکال کر دکھایا اور کہا کہ یہ زرینہ کا رومال ہے۔

خود جوگندر سنگھ کی بیوی ایک سال پہلے فوت ہوچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوی کی ووفات کے بعد انہیں زرینہ شدت سے یاد آنے لگی ہے۔

یہ سکھ بذریعہ ریل انڈیا سے پاکستان آئے ہیں

جوگندر سنگھ ان اڑتالیس سو سکھ یاتریوں میں شامل ہیں جو چودہ اپریل کو گردوراہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں ہونے والے بیساکھی کے میلے میں شرکت کریں گے۔

اس میلے میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری شرکت کریں گےجبکہ ہندوستانی سکھ ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان کی زیارت اور لاہورمیں تین روز کے قیام کے بعد انڈیا لوٹ جائیں گے۔

لیکن ہر سال کی طرح پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں میں ایسے سکھ بھی شامل ہیں جنہیں ہجرت کے بعد پہلی بار پاکستانی پنجاب آنے کا موقع ملا ہے اوروہ اس موقع پر اپنے آبائی علاقوں میں جاکر بچھڑے دوستوں سے ملنا چاہتے ہیں۔

جوگندر سنگھ کے پاس زرینہ کی نشانی ایک زرد رومال تو ہے لیکن اب وہ اپنے گاؤں کا پتہ بھی بھول چکے ہیں اور انہیں کچھ پتہ نہیں کہ زرینہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد