BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 April, 2006, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر-مظفر آباد: مشکلوں کی بس

سات اپریل دوہزار پانچ کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے بھارت کے زیرانتظام جاتی ہوئی پہلی بس
ہندوستان اور پاکستان نے ایک برس قبل آج ہی کے دن منقسم کشمیر کو جوڑنے والے سری نگر-مظفرآباد راستے کو کھول دیا تھا۔ یہ قدم اعتماد سازی کے طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیرکے منقسم خاندانوں میں اس بس کے بارے میں عام طور پر مایوسی ہے۔

یہاں سے ایک برس میں صرف چار سو لوگ ہی مظفرآباد جا سکے ہیں۔ اوڑی جیسے سرحدی علاقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ سرینگر-مظفرآباد راستہ کھولنے کا قدم محض ایک ’دکھاوا‘ ہے اور دونوں ملکوں نے کشمیریوں کے لیئے بس سروس شروع کرنے کا ’تماشہ‘ دکھا کر یہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک بڑا مذاق کیا ہے۔

کلگائی گاؤں کے رہنے والے ستّر سالہ راج محمد خان کے کئی رشتےدار مظفرآباد میں ہیں اور ان سے ملنے کے لیئے انہوں نے کئی مہینے پہلے سرینگر کے پاسپورٹ آفس میں سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیئے درخواست دی لیکن آج تک راج محمد اجازت نامہ کا انتظار کر رہے ہيں۔ ’اس راستے کا کھلنا مجھ جیسے سیکڑوں لوگوں کے لیئے کوئی معنی نہيں رکھتا۔ اجازت نامہ نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ راستے کا کھلنا یا بند رہنا ہمارے لیئے ایک ہی جیسا ہے۔‘

بس سروس کو منقسم خاندانوں کو ملانے کی وجہ سے شروع کیا گیا تھا لیکن سفری دستاویزات حاصل کرنے کا عمل پیچیدہ ہونے کے سبب لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرینگر کے پاسپورٹ آفس سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک برس میں 6524 لوگوں نے سفر کے لیئے درخواستیں دیں۔ ان میں سے صرف 560 کو ہی اجازت کے قابل سمجھا گیا لیکن بس کے ذریعے صرف تین سو افراد ہی مظفرآباد جا سکے۔ اس کے علاوہ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد مزید نوے لوگوں کو مختلف راحت مراکز سے کنٹرول لائن پار کرنے کے اجازت دی گئی۔

سفر میں دستاویزی مشکلات
 ہم اپنے رشتے داروں اور بچھڑے ہوئے دوستوں سے ملنے کے لیئے تڑپ رہے ہيں لیکن ہمارے لیئے سفری دستاویزات حاصل کرنا محال ہو گیا ہے۔
تہتر سالہ طفیل حسین
اوڑی کے اوڑوسا گاؤں کے پینتالیس سالہ محمد امین مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ بس سروس اور راستے کا کھلنا ہمارے ساتھ صرف ایک مذاق ہے۔ ہم اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیئے تڑپ رہے ہیں لیکن اس راستے کے کھلنے سے کیا فائدہ۔‘ محمد امین کے چچا اور چچا زاد بھائی مظفرآباد میں رہتے ہیں۔

کنٹروں لائن پر واقع ایک اور گاؤں ایشام کے تہتر سالہ طفیل حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خطے کے لوگوں کو اس سروس سے کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ وہ خود دو مہینے سے اجازت نامہ کا انتظار کر رہے ہيں۔ ’ہم اپنے رشتے داروں اور بچھڑے ہوئے دوستوں سے ملنے کے لیئے تڑپ رہے ہيں لیکن ہمارے لیئے سفری دستاویزات حاصل کرنا محال ہو گیا ہے۔‘

پاسپورٹ دفتر کے مطابق درخواستیں نام غلط ہونے، کنٹرول لائن کے دوسری جانب رشتے داروں کی تصدیق نہ ہونے اور شدت پسندوں سے تعلق کے شبہے میں مسترد کی جاتی ہیں۔ یہی نہیں سری نگر میں منظوری مل جانے کے بعد انہیں منظوری کے لیۓ پاکستان بھیجا جاتا ہے۔ پاسپورٹ افسر شری رامولو نے بتایا کہ منظوری کے باوجود تقریبا ڈیڑھ سو افراد مظفرآباد نہیں گۓ۔ ان کے نہ جانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان میں شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک کو اجازت نامہ نہیں دیا گیا تھا۔

اوڑی کے ایک ہائر سیکنڈری اسکول کے استاد اعجاز احمد کا خیال ہے کہ مظفرآباد جانے کے لیئے ایک شناختی کارڈ یا پھر زیادہ سے زیادہ اسٹیٹ سبجکٹ دستاویز کافی ہونا چاہیے تھا لیکن ’بدقسمتی سے کشمیریوں کے لیئے ہر ایک عمل مشکل بنا دیا گیا ہے۔‘

پاسپورٹ اور فیملی
 سفری درخواست کی منظوری کے باوجود تقریبا ڈیڑھ سو افراد مظفرآباد نہیں گۓ۔ ان کے نہ جانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان میں شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک کو اجازت نامہ نہیں دیا گیا تھا۔
پاسپورٹ افسر شری رامولو
اوڑی کے ایک زمیندار شبیر احمد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس راستےسے جانے کے لیئے انہوں نے بھی درخواست دی ہے لیکن ہر بار پوچھنے پر پاسپورٹ آفس والے کہتے ہیں کہ جانچ پڑتال کا عمل ابھی جاری ہے۔ ’راستے کے کھلنے سے ہماری کافی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ساری امیدوں پر بھارت اور پاکستان نے پانی پھیر دیا ہے۔‘

حال ہی میں وادئ کشمیر کے دورے پر آنے والے انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا کا کہنا ہے کہ ’بھارت اور پاکستان کے مابین اعتماد سازی کے جتنے بھی اقدامات کیے گئے ہیں ان کا فائدہ کشمیریوں کو نہیں ہو رہا ہے یہاں تک کہ سرحدوں پر جنگ بندی کا فائدہ بھی صرف دونوں ملکوں کی فوجوں کو ہی ہوا ہے۔ کشمیر میں تو جنگ جاری ہے۔‘

کشمیر کے عبد العزيز خان کے تقریبا بیس رشتے مظفرآباد میں زلزلے سے ہلاک ہوئے تھے، ایک بار تو انہیں جانے کا موقع ملا لیکن وہ دوسری بار مظفرآباد جانا چاہتے تھے لیکن ان کی درخواست کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

بس سروس کے بارے میں عام طور پر مایوسی کے ہی جذبات پائے جاتے ہيں۔ وادی کے عوام کا خیال ہے کہ ہند پاک مذاکرات کے عمل میں پیش رفت کے ساتھ سرینگر--مظفرآباد بس سے سفر کا عمل بھی شاید کچھ آسان ہو جائے۔

سرینگر--مظفرآباد بس سروس کے آغاز کے لیۓ حکمران پپپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کوششیں کی تھیں۔ بس کے ایک برس پورا ہونے پر پارٹی نے سرینگر میں ایک ریلی منعقد کی ہے۔ پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی ہے کہ ’سرینگر سے مظفرآباد کا یہ راستہ بھارت اور پاکستان کی دوستی اور ترقی کا راستہ ثابت ہوگا۔ اور اسی راستے مسئلہ کشمیر کا بھی کوئی پائیدار حل نکلے گا۔‘

پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
دکھ ، سکھ ساتھ ساتھ
ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ
اسلام آبادکشمیر کانفرنس
کشمیریوں کی رائے کو بھی اہمیت دیں
شناختی کارڈ اور کشمیرشناختی کارڈ ڈرامہ
کارڈ کھو گیا، گویا شناخت ہی کھوگئی!
مثبت قدم یا ایک چال
کشمیری رہنماؤں کا بھارتی اعلان پر ردعمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد