دیوی کالی قلات والی کا تہوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ سندھ کے بعد ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی صوبہ بلوچستان میں آباد ہے جہاں ہندو برادری اپنے تہوار پورے جوش و خروش سے مناتی ہے۔ گزشتہ دنوں قلات میں ہندوؤں کی دیوی کالی قلات والی کا میلہ تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ایک سو تیس کلومیٹر دور جنوب میں تاریخی شہر قلات واقع ہے۔ قلات بازار میں آمنے سامنے ہندوؤں کے دو محلے ہیں اور یہیں ایک برسوں پرانا مندر ہے۔ مندر کا نام کالی قلات والی کے نام سے مشہور ہے جہاں ہر سال مئی کے آخری ہفتے میں میلہ ہوتا ہے۔ یہاں عبادت کے علاوہ بھجن گائے جاتے ہیں اور منتیں مانگی جاتی ہیں۔ تین روزہ میلے کے اختتام پر لوگ پرساد لے کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔
مندر کے منتظم نے کہا ہے کہ برسوں پہلے کالی دیوی نے چاند کی تیسری تاریخ کو ظالموں کا خاتمہ کردیا تھا اور جھنڈا بلند کیا تھا جسے اکھنتیج کہا جاتا ہے جس کا مطلب چاند کی تیسری تاریخ ہے۔ اس دن کے بعد سے ہر سال یہ میلہ ہوتا ہے۔ اس میلے کے ایک منتظم کشور کمار نے بتایا کہ اس مندر کی نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے جس کے لیے مورتی ٹنڈو اللہ یار کے ایک کاریگر نے بنائی ہے۔ کوئی پندرہ فٹ اونچی اس مورتی کو میلے سے پہلے یہاں رکھا گیا ہے۔ اس میلے میں لوگ دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور قلات شہر میں ہندو برادری کی دکانیں بند رہتی ہیں۔ قلات کے علاوہ خضدار بھاگ اور سبی وغیرہ میں ہندو تاجروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ اس میلے میں جوان لڑکوں کو تلک لگائے گئے اور کئی سگائیاں طے پائی ہیں۔ میلے میں آنے والی خواتین نے بتایا کہ انھوں نے اس میلے میں منتیں مانی ہیں۔ ایک خاتون نے کہا ہے اس کی شادی کو بیس سال ہو گئے ہیں اور اس کی اولاد نہیں ہے ۔ اسی طرح اکثر خواتین نے سکھ شانتی اور بچوں کے اچھے بھوِش کے لیے پراتھنا کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||