BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 19:57 GMT 00:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلقات کی بہتری، کٹاس کے لئے امید

کٹاس کے قدیم مندروں کے لئے پاک بھارت تعلقات کی بحالی سے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
کٹاس کے قدیم مندروں کے لئے پاک بھارت تعلقات کی بحالی سے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
بابری مسجد کو گرائے جانے کے دس سال بعد پہلی دفعہ ہندو یاتری پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ دو سو ہندو یاتریوں کا ایک وفد منگل کو لاہور پہنچ رہا ہے جہاں سے وہ کوہِ نمک میں ہندوؤں کے مقدس مقام کٹاس راج جائیں گے۔ بابری مسجد کے انیس سو ننانوے کے واقعے کے بعد ہندو یاتریوں کا پاکستان آنا بند ہو گیا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے جو اقدامات ہو رہے ھیں، ہندو یاتریوں کایہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کٹاس راج چکوال سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

کٹاس راج کے مندر جو زیادہ اچھی حالت میں نہیں ہیں، ایک ہزار سے لے کر تین ہزار سال قبل از مسیح تک کے ہیں۔ جب بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے منہدم کیا تو مسلمانوں نےبھی کٹاس راج کے مندر توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن مقامی انتظامیہ کے بروقت اقدامات کی وجہ سے قدیم مندروں کو تباہی سے بچا لیا گیا تھا۔

واہگہ بارڈر کے راستے آنے والے ان ہندو یاتریوں کا استقبال محکمہ اوقاف کے افسران کریں گے اور ایک روز لاہور میں قیام کے بعد وہ چکوال کے لئے روانہ ہوں گے جہاں وہ تین روز تک قدیم مندورں کی زیارت کریں گے۔ ہندو یاتریوں کو کٹاس راج میں پاکستان یوتھ ہوسٹل میں ٹہرایا جائے گا۔ کٹاس راج اور اس سے ملحقہ علاقے کی ترقی کے لیے پنجاب حکومت نے پچھلے چند میہنوں میں کافی کام کیا ہے۔

گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے تین اگست دو ہزار تین میں کٹاس راج کا دورہ کیا تھا اور ہندو یاتریوں کی رہائش کے لیے کیے گیے انتظامات کا جائزہ لیا تھا۔

دوہزار سال قبل مسیح میں کٹاس راج علم و ادب کا مرکز سھمجا جاتا تھا۔ کٹاس راج کا ست گھڑا مندر تین ہزار قبل از مسیح کا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق چھ ہزار قبل مسیح کٹاس شہر بارہ میلوں پر پہلا ہوا تھا جو اب سکڑ کر ایک گاؤں رہ گیا ہے۔

کٹاس راج کے دراوڑوں کے عہد میں بھی مقدس مقامات میں سے ایک تھا اور اس کا مقدس چشمہ کی بہت اہمیت کا حامل بتایا جاتا ہے۔ ہندو مذہب کے مطابق یہ دھرتی ماتا کی ایک آنکھ ہے جو دنیا میں لوگوں کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر آنسو بہا رھی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد