لاہور: سُندر مندر ڈھا دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں اندرون شہر رنگ محل چوک کے پاس سوہا بازار میں واقع ہندو دیوتا کرشن کا ایک قدیمی مندر منہدم کردیا گیا ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے جمعہ کو اس مندر پر تعمیراتی کام کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ مصروف تجارتی علاقے میں واقع مندر کی عمارت زمین بوس کردی گئی ہے اور جمعہ کے دن سہ پہر تک وہاں ایک تجارتی پلازہ بنانے کا کام تیزی سے جاری تھا۔ جمعہ کے دن مختلف اخباری فوٹوگرافروں نے جب اس جگہ کی تصویر بنانےکی کوشش کی تو عمارت بنانے والوں نے انہیں اس سے روک دیا اور انہیں مارنے کی دھمکی دی۔ مندر کے انہدام کا معاملہ بھارت میں اٹھنے کی وجہ سے اس پورے علاقہ میں تناؤ ہے۔ عدالت عالیہ کے جج اختر شبیر نے جمعہ کے دن ایک آئینی رٹ درخواست پر مندروں کے انتظامی وفاقی محکمہ متروکہ وقف املاک (ای ٹی بی) کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کیئے اور کہا کہ تا حکم ثانی اس مندر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ اندرون شہر میں سوہا بازار اور گمٹی کے تجارتی علاقہ میں واقع اس چھوٹے سے قدیمی مندر کا ذکر کنہیا لال کی تاریخ لاہور میں درج ہے۔ اس مندر کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے عرف عام میں سندر مندر کہا جاتا تھا۔ عدالت عالیہ نے حکم امتناعی راولپنڈی کے ایک ہندو شہری اوم پرکاش کی رٹ درخواست پر دیا ہے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ متروکہ وقف املاک نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے نو مارچ سنہ دو ہزار چھ میں ملک سہیل نامی ایک شخص کو یہ مندر پٹہ (لیز) پر دے دیا اور اسے وہاں ایک تجارتی عمارت بنانے کی منظوری دے دی۔ درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ قانون کے تحت متروکہ وقف املاک کسی مندر یا مذہبی عمارت کو گرانے کا حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت اگر کسی شخص کی کسی مذہب کے خلاف حرکت سے کسی مذہب کے ماننے والے کی دل آزاری ہو تو اسے دو سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سندر مندر کا انتہائی خوبصورت لکڑی کا دروازہ تین برس پہلے چرا لیا گیا تھا جس کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پرانی چیزوں کے شوقین لاہور کے با اثر شہری پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے گھر میں یہ دروازہ آج بھی موجود ہے۔ تاہم اس بارے میں پولیس نے کوئی حتمی تفتیش نہیں کی اور یہ مقدمہ سرد خانہ کی نذر ہوگیا۔ دوسری طرف پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے جمعرات کو لاہور میں راوی روڈ پر ہندؤوں کے ایک مندر کا دورہ کیا جسے کرشنا مندر کہا جاتا ہے اور جو لاہور کا واحد مندر ہے جہاں ہندو آج بھی پوجا کرتے ہیں۔ شہر کے بیشتر مندر غیر آباد ہیں۔ وفاقی وزیر نے یہ بیان دیا کہ بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی دیکھ سکتے ہیں کہ کرشنا مندر منہدم نہیں کیا گیا بلکہ اس کی مرمت کی جارہی ہے۔ تاہم درخواست گزار کے وکیل فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اعجاز الحق نے جس مندر کی نشان دہی کی وہ سوہا بازار کے اس مندر سے مختلف ہے جسے منہدم کیاگیا ہے۔ | اسی بارے میں پشاور: رام مندر خالی کرنے کا نوٹس02 November, 2003 | پاکستان سندھ: مندر میں آتشزدگی پر احتجاج19 December, 2003 | پاکستان کٹاس میں مندروں کا سنگ بنیاد02 June, 2005 | پاکستان سرحد: بےحرمتی، مندر نظر آتش 29 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||