افغانستان پر حملے کے پانچ سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی جانب سے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد پانچ سال قبل افغانستان پر حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت بظاہر تو ختم کر دی گئی تھی لیکن غیر ملکی افواج کے خلاف ان کی مسلح مزاحمت مسلسل جاری رہی، جو اب بقول مبصرین کے تحریک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ دہشت گردی کے نام پر شروع کی گئی اس جنگ میں کون ہارا کون جیتا، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ تاہم افغانستان کی حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک ایسی گوریلا جنگ کا سامنا ہے جو ان کے کےلیئے یقینی طورپر ایک بڑا سر درد بنتی جارہی ہے۔ سات اکتوبر دوہزار ایک کو امریکی طیاروں نے پہلا فضائی حملہ افغانستان کے دارلحکومت کابل پر کیا اور اس کے بعد فضائی اور زمینی حملوں کا ایک نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہوا۔ ان حملوں میں غیر ملکی افواج نے طرح طرح کے جدید ہتھیاروں کو استعمال کیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہوا۔ سات اکتوبر کو شروع ہونے والے یہ حملے 12 نومبر 2001 کو کابل سے طالبان حکومت کے سقوط کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچے اور پینتیس دن تک جاری رہے۔ پشاور میں سینیئر افغان صحافی اور افغان امور کے ماہر محمد یعقوب شرافت نے اکتوبر کے اس حملے کے بارے میں بتایا امریکہ اور اتحادی طیاروں نے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک صرف فضائی بمباری کی اور افغانستان کے تمام اہم ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات اور اہم علاقوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی شکست کا آغاز مزار شریف کے محاذ میں ان کی پسپائی سے ہوا۔اُس کے بعد وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور شکست پہ شکست کھاتے چلےگئے۔ یہاں تک کہ پینتیس دنوں کے بعد کابل پر شمالی اتحاد کے قبضے کے بعد اسلامی ملیشیا کا سقوط ہوا۔ طالبان کے خاتمے اور بون کانفرنس کے نتیجے میں حامد کرزئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ افغانستان کو آخرکار طویل لڑائیوں اور خانہ جنگیوں سے نجات مل گئی ہے۔ ایک طرف جنگ زدہ ملک میں تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع ہوا تو دوسری طرف، ملک کے جنوب اور مشرقی صوبوں میں، اقتدار سے الگ کیئے گئے طالبان شدت پسندوں میں مزاحمت کی تحریک پروان چڑھی۔ پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع افغان صوبوں قندھار، زابل، اورزگان، پکتیا، پکتیکا، خوست ، گردیز ، ننگرہار، کونڑ اور نورستان کے علاقوں میں طالبان کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جاری مزاحمت میں تیزی آتی گئی۔ مبصرین کے خیال میں آج کل یہ مزاحمت عروج پر ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے اکثر افغانیوں کا خیال ہے امریکہ نے افغانستان میں آ کر بعض ایسے سنگین اور ناقابلِ معافی اقدامات کیئے جو اسلام اور افغانیوں کی روایات کے بالکل منافی تصور کئے جاتے تھے۔ دوسری طرف طالبان نے ان امریکی غلطیوں کا فائدہ اٹھایا اور عام افغانیوں میں ان کی حمایت میں اضافہ ہوتا رہا۔ پشاور میں ایک امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ سے وابستہ افغان صحافی سمی یوسف زئی نے بتایا کہ امریکہ کی افغانستان میں اب تک ناکامی کی ایک بڑی وجہ ان کی جنگ زدہ ملک آ کر بعض ایسی سنگین اور ناقابل تلافی غلطیاں ہیں جو اسلام اور افغانیوں کے روایات کے بالکل منافی تصور کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گھروں کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہونا، چھاپے مارنا، خواتین کو گرفتار کرنا اور ان کی تلاشی لینا وغیرہ، ایسی غلطیاں ہیں جنہیں افغان قوم کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرسکتی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغان حکومت، نیٹو فوج اور مغربی میڈیا، پاکستان پر اسلامی ملیشیا کی درپردہ امداد و حمایت کرنے کے مسلسل الزامات لگاتے رہے ہیں۔ ان الزامات کو مزید دوام صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں بخشا، جب انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بعض ریٹائرڈ افسران، طالبان کی درپردہ مدد کرنے میں ملوث رہے ہوں۔ اس سلسلے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل سے رابطہ کیا تو انہوں صدر مشرف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں پر طاقت کے استعمال نے ہمیشہ سے مسائل کو جنم دیا ہے۔ لہٰذا مبصرین کے بقول طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کی بجائے ان کو سیاسی عمل میں شامل کرنا چاہیے۔ تاکہ افغانستان میں جاری لڑائی کا مستقل اور پائیدار بنیادوں پر حل تلاش کیا جاسکے۔ | اسی بارے میں طالبان سے لڑائی مشکل ہے: برطانیہ19 September, 2006 | آس پاس افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس امریکی ہیلی کاپٹر تباہ: طالبان 30 June, 2004 | آس پاس افغان چوکیوں پر حملہ، نو ہلاک17 April, 2004 | آس پاس طالبان کا کچھ علاقوں پر قبضہ25 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||