BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے لڑائی مشکل ہے: برطانیہ
وزیر دفاع
ڈیس براؤن نے قبول کیا کہ طالبان سے جنگ توقع سے زیادہ مشکل ہے
برطانیہ کے وزیر دفاع ڈیس براؤن نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑائی ان کی توقعات سے زیادہ سخت ہے۔

’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان سے لاحق خطرات کا انہوں نے کم اندازہ لگایا تھا۔

تاہم وزیر نے کہا کہ ’نیٹو فورسز عظیم فریضہ سرانجام دے رہی ہیں اور ان کا مشن کامیابی سے ہمکنار ہوگا‘۔ ان کے مطابق افغانستان کے ہلمند صوبہ میں نیٹو فورسز میں چار ہزار برطانوی فوجی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افغانستان میں برطانوی فوجی شدید لڑائی لڑ رہے ہیں اور انیس فوجی صرف رواں ماہ میں مارے جاچکے ہیں۔ اس علاقے میں برطانوی فوج نے امریکی افواج سے جولائی میں قیادت حاصل کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی افغانستان افیون کی پیداوار کا مرکز ہے اور یہاں پرتشدد واقعات ایک معمول ہے، جس کا الزام کبھی طالبان تو کبھی منشیات مافیا پر لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے نیٹو کے دیگر رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں ڈھائی ہزار مزید فوج کی تعیناتی کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے اضافی فوج فراہم کریں۔

وزیر نے مزید کہا کہ نیٹو کی اقوام کو اپنے اصل مقصد کا عزم دہرانا چاہیے اور انہیں جلد مطلوبہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کرکے یہ پیغام دینا چاہیے کہ یہ اتحاد اب بھی مضبوط ہے اور اپنا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔

بی بی سی کے سیاسی معاملات کے نامہ نگار گیری کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر کی اس بات سے عندیہ ملتا ہے کہ نیٹو کی ناکامی اور ہلمند میں موجود فوج کی مدد کے لیے اضافی نفری کی فی الوقت عدم دستیابی کی وجہ سے حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔

ڈیس براؤن نے کہا کہ جو تنقید نگار اسی کی دہائی میں افغانستان میں سویت یونین اور اٹھارویں صدی میں برطانوی افواج کی ناکامی کی بات کرتے ہیں انہیں اب کے مشن کی نوعیت کا درست اندازہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم حملہ آور نہیں بلکہ افغانستان کی منتخب اور قانونی حکومت کی دعوت پر ان کی مدد کے لیے وہاں موجود ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار ایک میں ’ظالم طالبان حکومت‘ کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کے باشندوں نے زیادہ سکول، ہسپتال اور ملازمتیں دیکھی ہیں اور کئی مہاجرین بھی واپس وطن آئے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ ’کامیابی یہ نہیں جو ہم سمجہتے ہیں کہ سلامتی، خوشحالی اور موزون حکمرانی بلکہ اصل کامیابی ترقی ہے جس کی خاصی اہمیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے بھاری نقصان کے باوجود بھی ان کا استحکام ان کے لیے ایک حیران کن امر ہے کیونکہ اس سے نیٹو افواج کو مزید تگ و دو کرنی پڑی رہی ہے جس سے ترقی اور تعمیر نو کی رفتار سست ہورہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد