| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کا کچھ علاقوں پر قبضہ
امن کے لئے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے کمزور پڑنے کے باعث طالبان افغانستان کے کچھ ایسے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر رہے ہیں جہاں انہیں شکست ہوئی تھی۔ کوفی عنان کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے اقوامِِ متحدہ کے امن کی کوششوں کے لئے متعین اعلیٰ اہلکار جین میری نے جن کا عہدہ انڈر سیکٹری جنرل کا ہے، کہا کہ افغانستان کے کچھ حصوں میں عدم تحفظ کی کئی وجوہات ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہے جس کے باعث طالبان کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قندھار اور پکتیکا کے سرحدی اضلاع میں طالبان ضلعی انتظامیہ میں اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو افغان صدر حامد کرزئی نے شمالی شہر قندوز میں مختلف ملیشیا کو غیر مسلح کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مقام پر جرمنی اپنے چار سو پچاس فوجی بھیج رہا ہے۔
تاہم اب تک کسی اور ملک نے بین الاقوامی امن فوج میں اپنے فوجی بھیجنے کا وعدہ نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دارالحکومت کابل کے باہر بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ امن کے اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تعمیرِ نو میں عدم استحکام کے باعث تاخیر ہو رہی ہے اور ایسا خصوصاً ان علاقوں میں ہے جہاں سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ سلامتی کے ان خطرات کی وجہ سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ حکومت میں کمزوری کے آثار ہیں۔ دریں اثنا افغان صدر حامد کرزئی کی لوگوں کو غیر مسلح کرنے کی مہم کے بارے میں اب تک شبہات پائے جاتے ہیں اور سوال یہ ہے کہ آیا افغانستان کے جنگی سردار اس منصوبے کے ساتھ تعاون بھی کریں گے یا نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ملیشیا کے افراد کی تعداد چار لاکھ ہے۔ قندوز میں حامد کرزئی نے ان ایک ہزار لڑاکا افراد کو مبارک دی جنہیں گزشتہ چند دن میں غیر مسلح کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ امن اور تعمیرِ نو کی خاطر جہاد شروع کردیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||