افغان جھڑپیں: ہزاروں کی ہجرت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں طالبان اور نیٹو فوج کے درمیان جھڑپوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے، مقامی لوگ ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق حالیہ مہینوں میں ہیلمند، قندھار اور اُرزگان صوبوں سے اسی سے نوے ہزار تک لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کی ہے۔ اس طرح جنوبی افغانستان سے اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں نیٹو فوج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یو این ایچ سے آر نے صوبہ قندھار میں بتیس سو خاندانوں میں اشیائے خورد و نوش اور کمبل بسترے وغیرہ تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی حصوں کے افغانی پہلے ہی حشک سالی اور باہمی تنازعات کی وجہ سے مشکلات سے دو چار تھے لیکن جھڑپوں کی تازہ لہر نے ان کی تکالیف میں مذید اضافہ کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین کی ترجمان، جینیفر پیگونِس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ملک کے جنوبی حصوں میں امن بحال نہیں ہو جاتا، ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ پناہ گزینوں کے لئے افغانستان کے سرکاری ادارے سے منسلک رحمت اللہ صفی نے بتایا کہ امدادی اداروں اور دیگر محفوظ مقامات پر پناہ لینے والے مہاجرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے تاہم ابھی بھی انہیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھر، باغات، چراہ گاہیں، سکول، ہسپتال، سب کچھ کھو دیا ہے۔ | اسی بارے میں دو امریکیوں سمیت تین فوجی ہلاک03 October, 2006 | آس پاس تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس افغان لڑائی:’شدت پسند‘ ہلاک20 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||