BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان جھڑپیں: ہزاروں کی ہجرت
افغان پناہ گزین کیمپ
بیشتر لوگ کیپوں یا پھر اپنے عزیزوں کے ہاں پناہ لے رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقوں میں طالبان اور نیٹو فوج کے درمیان جھڑپوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے، مقامی لوگ ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ادارے کے مطابق حالیہ مہینوں میں ہیلمند، قندھار اور اُرزگان صوبوں سے اسی سے نوے ہزار تک لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کی ہے۔ اس طرح جنوبی افغانستان سے اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں نیٹو فوج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

یو این ایچ سے آر نے صوبہ قندھار میں بتیس سو خاندانوں میں اشیائے خورد و نوش اور کمبل بسترے وغیرہ تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی حصوں کے افغانی پہلے ہی حشک سالی اور باہمی تنازعات کی وجہ سے مشکلات سے دو چار تھے لیکن جھڑپوں کی تازہ لہر نے ان کی تکالیف میں مذید اضافہ کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین کی ترجمان، جینیفر پیگونِس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ملک کے جنوبی حصوں میں امن بحال نہیں ہو جاتا، ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

پناہ گزینوں کے لئے افغانستان کے سرکاری ادارے سے منسلک رحمت اللہ صفی نے بتایا کہ امدادی اداروں اور دیگر محفوظ مقامات پر پناہ لینے والے مہاجرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے تاہم ابھی بھی انہیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھر، باغات، چراہ گاہیں، سکول، ہسپتال، سب کچھ کھو دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد