افغان لڑائی:’شدت پسند‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں نیٹو کے زیرِ سربراہی لڑنے والی فوجوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک تازہ ترین لڑائی میں دس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ بیان نیٹو کی زیر قیادت کام کرنے والی انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس کی طرف سے دیا گیا ہے اور اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبہ ہلمند کے علاقے گرمسر میں ہونے والی اس لڑائی میں اس کے فوجیوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ یہ لڑائی نیٹو کے افغانستان میں موجود جنرل کے اس بیان کے ایک روز بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صوبہ قندھار میں طالبان کو ’مکمل شکست‘ دی جا چکی ہے۔ پیر کو ہونے والے تین خود کش حملوں کے باوجود لیفٹینٹ جرنل ڈیوڈ ریچرڈ نے یہ بیان دیا تھا۔ ان حملوں میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں چار کینڈین فوجی بھی شامل تھے۔ ایک حملہ کندھار میں ہوا تھا جہاں نیٹو اپنی فتح کا اعتراف کر رہی ہے جبکہ دوسرا حملہ دارالحکومت کابل میں اور تیسرا مغربی علاقے میں ہرات کے مقام پر ہوا تھا۔ انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی دستے گرمسر کے مقام پر افغان فوجیوں نے ساتھ تربیتی مشن پر تھے جہاں انہوں نے شدت پسندوں کو دیکھا جنھوں نے بھاری مشین گنیں اٹھائی ہوئی تھیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل سیکیورٹی فورسز نے ان شدت پسندوں پر مشین گنوں سے حملہ کیا اور اس کے ساتھ اپنی فضائی فوج سے بھی مدد لی۔ اس جنگ میں شدت پسندوں کی تین گاڑیاں تباہ کی گئیں اور 10 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ لڑائی اس سال پورے جنوبی افغانستان کے علاقے میں جاری ہے جہاں نیٹو نے امریکہ کی سربراہی میں لڑنے والی فوجوں سے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا تاکہ افغانستان میں حکومت کی حاکمیت کو مضبوط کیا جا سکے۔ | اسی بارے میں افغانستان خودکش حملہ: 12 ہلاک28 September, 2005 | صفحۂ اول ’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘13 September, 2005 | صفحۂ اول افغان بارودی سرنگوں کی زد میں04 April, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||