BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 September, 2006, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو
نیٹو کے تحت افغانستان میں تعینات فوجیوں کی تعداد 30000 سے زائد ہوگئی ہے
مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت نیٹو افواج کی تعیناتی پورے افغانستان میں کی جانی ہے۔

نیٹو کے سربراہ یاپ دی اوپ شیفر نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو افغانستان کو پھر سے ’دہشت گردی کا تربیت کیمپ‘ بننے سے روکنے کی مہم میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ اتحادی ممالک مزید فوجی بھیجنے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن یہ تعداد 2500 مزید فوجیوں کے ان کے مطالبے سے کم ہے جو وہ افغانستان کے جنوب میں تعینات کرنا چاہتے ہیں۔

افغانستان کے جنوب میں بڑھتی ہوئی طالبان مزاحمت سے حالیہ دنوں میں نیٹو کے کئی فوجی مسلسل مارے جاتے رہے ہیں۔

امریکی فوجی بھی نیٹو کمانڈ کے تحت
 فیصلے کے تحت نیٹو کی افواج مشرقی افغانستان میں بھی تعینات کی جائیں گی۔ اس فیصلے کےتحت لگ بھگ 12000 امریکی فوجی بھی نیٹو کمانڈ کے تحت تعینات ہوں گے۔
تازہ تشدد میں صوبے قندھار میں ایک فوجی اس وقت مارا گیا جب وہ پیدل پیٹرول کررہا تھا۔ جبکہ زابل صوبے میں ایک چیک پوائنٹ پر ایک افسر اور دو شدت پسند مارے گئے۔

جمعرات کو کیے جانے والے فیصلے کے تحت نیٹو کی افواج مشرقی افغانستان میں بھی تعینات کی جائیں گی۔ اس فیصلے کےتحت لگ بھگ 12000 امریکی فوجی بھی نیٹو کمانڈ کے تحت تعینات ہوں گے۔

اس طرح افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں کی تعداد 32000 ہوجائے گی۔ تاہم نیٹو کے سربراہ مزید 2500 فوجیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

نیٹو کے سربراہ یاپ دی اوپ شیفر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ناکامی کے نتائج کا مطلب ہوگا کہ یہ ملک ’دہشت گردوں کی تربیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اڈہ‘ بن جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد