تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت نیٹو افواج کی تعیناتی پورے افغانستان میں کی جانی ہے۔ نیٹو کے سربراہ یاپ دی اوپ شیفر نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو افغانستان کو پھر سے ’دہشت گردی کا تربیت کیمپ‘ بننے سے روکنے کی مہم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اتحادی ممالک مزید فوجی بھیجنے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن یہ تعداد 2500 مزید فوجیوں کے ان کے مطالبے سے کم ہے جو وہ افغانستان کے جنوب میں تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان کے جنوب میں بڑھتی ہوئی طالبان مزاحمت سے حالیہ دنوں میں نیٹو کے کئی فوجی مسلسل مارے جاتے رہے ہیں۔
جمعرات کو کیے جانے والے فیصلے کے تحت نیٹو کی افواج مشرقی افغانستان میں بھی تعینات کی جائیں گی۔ اس فیصلے کےتحت لگ بھگ 12000 امریکی فوجی بھی نیٹو کمانڈ کے تحت تعینات ہوں گے۔ اس طرح افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں کی تعداد 32000 ہوجائے گی۔ تاہم نیٹو کے سربراہ مزید 2500 فوجیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے۔ نیٹو کے سربراہ یاپ دی اوپ شیفر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ناکامی کے نتائج کا مطلب ہوگا کہ یہ ملک ’دہشت گردوں کی تربیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اڈہ‘ بن جائے گا۔ | اسی بارے میں قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغان لڑائی:’شدت پسند‘ ہلاک20 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس ’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘26 September, 2006 | آس پاس باہمی اختلافات دور کریں: بش28 September, 2006 | آس پاس مشرف کے بیان پر کینیڈا میں بحث28 September, 2006 | آس پاس القاعدہ نے بش کو ’ناکامی‘ قرار دیا29 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||