مزاحمت سے نمٹنے کے لیئےگائیڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کی جانب سے مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیئِے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جوگزشتہ بیس برس کے دوران اس موضوع پر شائع ہونے والا پہلا کتابچہ ہے۔ اس رہنما کتابچے میں عراق اور افغانستان کے واقعات کے حوالہ جات کی مدد سے فوجیوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ جنگ کے حوالے سے لڑائی کے علاوہ اور کیا اقدمات کر سکتے ہیں۔ ناقدین امریکی فوج پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے دوران مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوتی رہی ہے اور یہی مزاحمتی تحریکوں کو ہوا دینے کا سبب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج عراق اور افغانستان میں بعض اوقات یہ جاننے میں ناکام رہی ہے کہ کون مزاحمت کار ہے اور کون معصوم شہری۔ دو سو بیاسی صفحات کے اس ہدایت نامے میں انٹیلیجنس، حکمتِ عملیوں کی تیاری، ان پر عمل اور مقامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مینوئل کے مطابق اس کا مقصد امریکی فوجیوں کو تیار کر نا ہے کہ’ اگر ان کا استقبال دستی بموں سے ہو یا اس کے برعکس مقامی لوگ انہیں خوش آمدید کہیں تو ان متضاد حالات میں وہ کیسے ردعمل ظاہر کریں‘۔ امریکی فوج کے ترجمان کرنل سٹیو بوائلین کا کہنا ہے کہ یہ مینوئل جنگ کی بدلتی نوعیت کا عکاس ہے کیونکہ جنگ کا دائرہ اب روایتی لڑائی سے ہٹ کر قوموں کی تعمیرِ نو تک پھیل گیا ہے۔ اس کتابچے کی تیاری میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کا تعاون بھی حاصل کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ’ عام طور پر سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی منصوبے مزاحمتی تحریک کو جڑ سے اکھاڑنے یا اسے کم کرنے میں روایتی فوجی کارروائی سے زیادہ اہم ثابت ہوتے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع14 December, 2006 | آس پاس رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس خودکش حملے میں تین افغان ہلاک03 December, 2006 | آس پاس لگاتار تین کار بم حملے، 50 ہلاک02 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||