عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ وہ عراق پر اپنی حکمتِ عملی بدلنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مشورے مل رہے ہیں لیکن وہ اُن مشوروں پر عمل نہیں کریں گے جو شکست کی طرف لے کر جاتے ہیں جیسا کہ ’کام ختم کرنے سے پہلے انخلاء‘ کا مشورہ۔ گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں لڑنے والی فوج کو 2008 تک واپس بلا لینا چاہیئے۔ صدر بش اگلے ہفتے عراق پر اپنی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرنے والے تھے لیکن بعد میں وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اب یہ اعلان اگلے سال جنوری میں کیا جائے گا۔ واشنگٹن میں پینٹاگون کے سینیئر اہلکاروں سے ملاقات کے بعد صدر بش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کی کوششیں ترک نہیں کریں گے کہ عراق کو ایک مستحکم جمہوریت بنایا جائے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ عراق میں تشدد کی سطح خوفناک ہے۔ صدر بش نے، جو کہ نائب صدر ڈک چینی اور سبکدوش ہونے والے وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ہمراہ تھے، کہا کہ امریکی اور عراقی افواج نے 5900 کے قریب مزاحمت کاروں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہمارے دشمن کو ابھی شکست نہیں ہوئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عراق پالیسی میں تاخیر کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ نئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کو اپنے مشورے دینے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں بش کی عراق پالیسی میں تاخیر13 December, 2006 | آس پاس عراق: دوسرے روز بھی تشدد جاری 13 December, 2006 | آس پاس بغداد: مرنے والوں کی تعداد 7012 December, 2006 | آس پاس ’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘10 December, 2006 | آس پاس امریکی فضائی حملے میں20 عراقی ہلاک08 December, 2006 | آس پاس ’فوری بات چیت ممکن نہیں‘07 December, 2006 | آس پاس رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||