BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 00:05 GMT 05:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع
صدر بش، ڈک چینی اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل پیٹر کے ہمراہ
اعلان میں تاخیر کی وجہ رابرٹ گیٹس کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دینا بتائی گئی ہے
صدر بش نے کہا ہے کہ وہ عراق پر اپنی حکمتِ عملی بدلنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مشورے مل رہے ہیں لیکن وہ اُن مشوروں پر عمل نہیں کریں گے جو شکست کی طرف لے کر جاتے ہیں جیسا کہ ’کام ختم کرنے سے پہلے انخلاء‘ کا مشورہ۔

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں لڑنے والی فوج کو 2008 تک واپس بلا لینا چاہیئے۔

صدر بش اگلے ہفتے عراق پر اپنی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرنے والے تھے لیکن بعد میں وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اب یہ اعلان اگلے سال جنوری میں کیا جائے گا۔

واشنگٹن میں پینٹاگون کے سینیئر اہلکاروں سے ملاقات کے بعد صدر بش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کی کوششیں ترک نہیں کریں گے کہ عراق کو ایک مستحکم جمہوریت بنایا جائے۔

انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ عراق میں تشدد کی سطح خوفناک ہے۔

صدر بش نے، جو کہ نائب صدر ڈک چینی اور سبکدوش ہونے والے وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ہمراہ تھے، کہا کہ امریکی اور عراقی افواج نے 5900 کے قریب مزاحمت کاروں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہمارے دشمن کو ابھی شکست نہیں ہوئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عراق پالیسی میں تاخیر کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ نئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کو اپنے مشورے دینے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
’فوری بات چیت ممکن نہیں‘
07 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد