رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ’عراق سٹڈی گروپ‘ کی رپورٹ کے مطابق عراق کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ’ کوئی جادوئی‘ فارمولا نہیں ہے۔ عراق سٹڈی گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ تجاویز پر بات نہیں کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایران اور شام سے بات چیت ضروری ہے۔ عراق سٹڈی گروپ کی رپورٹ وصول کرنے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ یہ ’ عراق میں صورتحال کی ایک سخت تشخیص ہے لیکن اس میں مسئلے کے حل کے لیے اچھی تجاویز دی گئیں ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ رپورٹ عراق پر پالیسی ترتیب دینے کے لیے ایک مشترکہ فورم بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ہم اس کی سفارشات پر وقت کے ساتھ ساتھ عمل کرتے رہیں گے‘۔ واشنگٹن نے ابھی تک ایران اور شام سے عراق کے مسئلے پر براہِ راست بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطٰی میں جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے امریکہ کو ازسرِنو کوشش کرنا ہو گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں زیادہ حیران کن مواد نہیں ہے اور نہ ہی عراق کے مسئلے کا فوری حل موجود ہے۔ ’عراق سٹڈی گروپ کے شریک چیئر مین لی ہیملٹن نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ عراق کی صورتحال نہایت کشیدہ ہے اور دن بدن بگڑتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ ایک سو بیالیس صفحوں پر مشتعمل اس رپورٹ میں 72 سفارشات پیش کی گئیں ہیں جن میں سے تین اہم درج زیل ہیں۔
۔عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے بنیادی مشن میں تبدیلی تاکہ فوجیوں کو وہاں سے نکالنے کا عمل ذمہ داری سے شروع کیا جا سکے۔ ۔مفاہمت پیدا کرنے کے لیے عراقی حکومت کے فوری ایکشن کی ضرورت۔ ۔ علاقے میں نئی اور پرزور سفارتی کوششوں کی ضرورت۔ رپورٹ کے دوسرے شریک چیر مین جیمز بیکر کا، جو کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں، کہنا ہے کہ عراق میں امریکہ کا زیادہ دیر تک قیام اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ رپورٹ میں عراق سے امریکی افواج کے اخراج کے لیے کوئی مخصوص وقت نہیں دیا گیا ہے لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ 2008 کے اوائل میں امریکی فوجوں کا عراق سے انحلا ضروری ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ کے عمومی جائزے میں دی گئی سفارشات کے مطابق امریکہ کو ایران اور شام کے ساتھ براہ راست بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ واشنگٹن کو ان دونوں ممالک کے ساتھ مذاکرات کے فوائدو نقصانات کے متعلق بھی سوچنا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایران اور شام کی عراق کے معاملات میں اثرانداز ہونے کی صلاحیت اور عراق میں انتشار کو ختم کرنے میں ان کی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکہ کو چاہیے کہ ان کو اس معاملے میں تعمیری طور پر استعمال کرے‘۔ رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے شام نے اپنے اس موقف کا پھر اعادہ کیا کہ وہ امریکہ سے تعاون کے لیے رضامند ہے۔ شام کے وزیرخارجہ محسن بلال نے کہا کہ عراق کی مدد کرنا خود شام کے اپنے مفاد میں ہے اور یہ کہ ان کے ملک اور عراق سٹڈی گروپ کے ارکان کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بش انتظامیہ کی ان کوششوں کے بعد کہ دونوں ملکوں کو تنہا کر دیا جائے، صدر بش شام اور ایران کے ساتھ بات چیت کے مشورے پر کان نہیں دھریں گے‘۔ رپورٹ میں عراق کی روز بروز بگڑتی صورتحال کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر صورتحال اِسی طرح خراب ہوتی رہی تو اس بات کا خطرہ ہے کہ عراق انتشار کا شکار ہو جائے گا جس سے نہ صرف عراقی حکومت ختم ہو جائے گی بلکہ انسانی حقوق کی پامالی بھی ہو گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمسایہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ عراقی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کرادار کریں۔ عراقی صورتحال سے دنیا پر امریکی اثرورسوخ میں کمی واقع ہو گی اور امریکی دنیا مزید کٹ جائیں گے‘۔ دس رکنی عراق سٹڈی گروپ میں امریکہ کے سابق مشہور پالیسی ساز اور بین الاقوامی امور کے ماہرین شامل ہیں۔ گروپ نے رپورٹ پر کام کا آغاز اس سال اپریل میں کیا تھا۔ اس سے قبل ذرائع ابلاغ تک پہنچنے والی خبروں میں کہا جا رہا تھا کہ رپورٹ میں عراق میں امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے نصف کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عراق میں فوج کے کردار میں تبدیلی کی سفارش بھی کی جائے اور اسے جنگ کی بجائے بدل کر مدد کا کردار ادا کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ عراق سٹڈی گروپ نے اپنی رپورٹ کی تشکیل کے دوران ایک سو ستر افراد سے بات کی ہے جن میں عراقی رہنماؤں، صدر بُش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی اور عراق سفارتکاروں کے علاوہ عراق کے پڑوسی ممالک کے سینئر اہلکار بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس08 November, 2006 | آس پاس صدر بش شیعہ لیڈر سے ملیں گے02 December, 2006 | آس پاس اردن میں بش اور المالکی کی ملاقات 29 November, 2006 | آس پاس ایران پر صدر بش کی شدید تنقید27 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||