ایران پر صدر بش کی شدید تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا ہے کو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی اپنی کوششیں بڑھائے۔ انہوں نے یہ بات ان اطلاعات کے چند ہی گھنٹے بعد کہی کہ ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کا پروگرام مزید بڑھا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین نیو یارک میں ایک اجلاس میں یہ ایران پر پابندیوں کے بارے میں غور کر رہے ہیں کیونکہ یورینیم کی افزودگی روکنے کی ایران کو دی گئی ڈیڈلائن گزر گئی ہے اور اس نے اپنا جوہری پروگرام بند نہیں کیا ہے۔
امریکی صدر جارج بش اور ان کی انتظامیہ کو یقین ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ اور اب شمالی کوریا کے جوہری دھماکے کے بعد، امریکہ کا ایران کا جوہری پروگرام روکنے کا عزم اور بھی بڑھ گیا ہے۔ اس خبر پر کہ ایران نے سنٹرے فوجز کا ایک اور نظام تیار کر لیا ہے، صدر بش کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے (افزودگی) دوگنا کی ہے یہ نہیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا خیال ہی ناقابلِ قبول ہے‘۔ صدر جارج بش نے کہا: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنی کوششیں دوگنا کرنا ہوں گی تاکہ ایران کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ اگر اس نے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھا تو وہ دنیا میں تنہا رہ جائے گا‘۔
فرانس کے صدر یاک شراک نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزید مزاکرات نہیں ہو سکتے، تو اس پر پابندیاں عائد کر دینی چاہئیں۔ برطانیہ نے بھی ایران کے اس عمل پر تنقید کی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کے سلسلے میں کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو جولائی میں اپنا یورینیم افزدوگی کا پروگرام ختم کرنے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی جس پر ایران نے عمل نہیں کیا۔ اب سلامتی کونسل میں اس قرار داد پر کام جاری ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اساسوں کو منجمد کر دیا جائے گا۔ تاہم چین اور روس دونوں ہی ایران پر پابندیاں عائد کرنے پر رضامند نہیں۔ |
اسی بارے میں ایران پر پابندیوں کا مطالبہ26 October, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام: ایرانی پیش رفت 23 October, 2006 | آس پاس جوہری ٹیکنالوجی کے حق کا دعویٰ11 October, 2006 | آس پاس ایران کے خلاف پابندیوں پر غور07 October, 2006 | آس پاس ایران جوہری تنازعہ: فرانس تعاون کرے03 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||