BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران ایٹم بنا سکے گا یا نہیں؟

یگروپونٹے
ایران دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے: نیگروپونٹے
امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ جان نیگروپونٹے کی یہ تبصرہ نما پیش گوئی کہ ایران آئندہ دس برس میں جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے، اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔


امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے تجزیے کے مطابق ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔


لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی کتنی درست ہے؟

ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کسی بھی انٹیلیجنس اہلکار کے بیان کے لیے ایک بنیادی نوعیت کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے۔

اس لیے جب ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے سے یہ پوچھا گیا کہ ہتھیاروں کے لیے عراقی پروگرام کے بارے میں واشنگٹن کی مشترکہ کوششوں سے حاصل کی گئیں اطلاعات جس قدر غلط ثابت ہو چکی ہیں اس کے بعد یہ کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایران کے بارے میں اطلاعات درست ہوں گی؟

اس انتہائی مناسب سوال کا جواب جان نیگروپونٹے نے یہ دیا کہ ماضی کی ناکامیوں سے کچھ سبق سیکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور عراق میں انتہائی بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔

کویت میں در اندازی سے قبل عراق کئی سال سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور عالمی معائنہ کاروں کو اس سے دور ہی رکھا گیا تھا۔

اس طرح جب کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ ہوا تو بھی معائنہ کاروں سے چوہے اور بلی کا کھیل ہوتا رہا۔

جہاں تک مغربی حکومتوں کا تعلق ہے تو انہوں نے عراق کے بارے میں اطلاعات کو جائزے میں عراقی حکومت کے اس رویّے کو بنیاد بنایا جو اس نے ماضی میں روا رکھا تھا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کے آخر میں اس نوع کے تمام جائزے غلط ثابت ہوئے۔

ایران
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پیشگوئیاں قابلِ اعتبار اطلاعات کی بنا پر نہیں کی جا رہیں

اس کے برخلاف ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی شک نہیں پایا جاتا اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں زیادہ تر اطلاعات ایٹمی معاملات پر نگرانی کے عالمی ادارے آی اے ای اے کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔

اگرچہ ایران نے عالمی معائنہ کاروں کو وسیع تر رسائی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کی ایٹمی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ایران نے اگرچہ خود ہی اور رضاکارانے طور پر عالمی معائنہ کاری پر آمادگی ظاہر کی لیکن بعد میں اس نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور افزودگی کی سرگرمیاں شروع کر دیں۔

اس کے بعد ایران کی ایٹمی پیش رفت کی رفتار کا معاملہ ہے جس میں یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر ایران اپنی مسلسل تردیدوں کے باوجود ایٹمی ہتھیار بناتا ہے تو اس میں اسے کتنا عرصہ لگ سکتا ہے؟

اس بارے میں امریکی جائزے یہ کہتے ہیں کہ اس میں ایران کو ’ کوئی چار سے دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے‘۔

اس بارے میں اطلاعات کی نادرستی کی بڑی وجہ خفیہ اطلاعات کے حصول کے ان محدود وسائل کو قرار دیا جاتا ہے جن کی بنا پر حاصل ہونے والی اطلاعات کے درست یا غیر درست ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

ان دنوں یورینیم افزودگی کی جن نئی کوششوں کا ڈنکہ پیٹا جا رہا ہے ان میں خود اپنے فیڈ سٹاک کی بجائے چین کے تعاون کی شمولیت کا امکان ہے۔

اس سے ایران کے یورینیم ہیکسافلورائیڈ کی کوالٹی کے بارے میں یقینی بات کرنا اور دشوار ہو گیا ہے۔

کیا ایران اس تکنیکی دشواری پر قابو پا سکے گا؟ یا اس سلسلے میں اسے بیرونی مدد لینا پڑے گی؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ سوال ہے وقت کا ہے کہ کب تک؟

اس وقت ایران کے پاس مواد کے بارے میں جو اطلاعات ہیں ان کی بنا پر تو یہ کہنا بہت دشوار ہے کہ وہ 2010 تک ایسا مواد بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے جس سے ایٹم بم بنایا جا سکے۔

بو شہر
بو شہر میں ایران کا ایٹمی پلانٹ

اس بارے ضرور کچھ لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ ایران یہ صلاحیت پہلے ہی حاصل کر چکا ہے لیکن بعض تجزیہ کار اس پر اصرار کرتے ہیں کہ ایران کے بارے میں انٹیلیجنس اطلاعات سے جو تصویر بنتی ہے اس پر وہ غیر واضح ہے۔

لیکن ایران کے ایٹمی ارادوں کے بارے میں کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلی یہ طے کرنا ہے ضروری کہ تہران میں درحقیقت کنٹرول کسے حاصل ہے ۔

امریکی صدر جارج بشایران سے مذاکرات
بش انتظامیہ پر اندروونی اور بیرونی دباؤ؟
ایران پر احتیاط برتیں
یرغمال بنائے جانے والے سفارتکار کا مشورہ
حملہ کب اور کیسے؟
ایران پر حملہ، قیاس آرائیاں اور ممکنات
 بش اور منموہنامریکہ کا دوغلاپن
ایران اور انڈیا پر امریکہ کا دوہرا رویہ
تیلایران جوہری معاملہ
تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد