BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 23:38 GMT 04:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران کے نقطہ نظر کو سمجھیں‘

بلکس رپورٹ
بلکس نے کہا ہے کہ امریکہ سمیت تمام ملک سی ٹی بی ٹی پر دستخط کریں
اقوام متحدہ کے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر آزادانہ کمیشن کے چیئرمین ہانس بلکس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر بات چیت کے وقت ایرانی نقطہ نظر کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

ہانس بلکس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’انہیں (ایران کو) عراق میں ایک لاکھ تیس ہزار امریکی فوجی نظر آتے ہیں، اور پاکستان اور افغانستان میں امریکی اڈے نظر آتے ہیں، اور اپنے ملک کے شمال میں مزید فوجی کارروائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایران کو یہ بھی یاد ہے کہ مصدق، جو ایک منتخب وزیر اعظم تھے، انہیں بیرونی طاقتوں کی خفیہ دخل اندازی کے ذریعے نکال باہر کیا گیا۔ اس لیے ممکن ہے ایران میں کچھ گروہوں کا خیال ہو کہ ان کی سلامتی کو بیرونی طاقتوں سے خطرہ لاحق ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے ان خدشات کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

ہانس بلکس نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو کمیشن کی رپورٹ میں ساٹھ ایسی تجاویز پیش کئیں جن کے ذریعے عالمی برادری وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹ سکتی ہے۔

پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی نے مسٹر بلکس سے یہ سوال کیا کہ کیا ایران دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ غیر ذمہ دار نہیں اور اس کے ہاتھوں میں یہ ہتھیار زیادہ خطرناک نہیں؟ ہانس بلکس نے جواباً کہا کہ یہ تو وہی دلیل ہے جو امریکہ میں رائفل ایسوسی ایشن دیا کرتی ہے کہ پستول خود خطرناک نہیں ہوتے بلکہ ان کا خطرناک ہونا یا نہ ہونا ان لوگوں پر ہے جن کے ہاتھوں میں وہ ہوں۔

ہانس بلکس کے مطابق یہ کمیشن اس دلیل کو رد کرتا ہے۔ اور کمیشن کا خیال ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار دنیا کی کسی بھی حکومت کے ہاتھوں میں خطرناک ہیں۔

’اگر آپ امریکہ کی مثال لیں تو بہت سے جوہری ہتھیار ’ہئیر ٹرگر الرٹ‘ یعنی انتہائی کم وقت میں چل جانے والے نظام سے منسلک ہیں اور روس میں بھی ایسا ہی ہے اور اگر آپ حکومتوں کی بھی بات کریں تو حکومتیں تو بدل جاتی ہیں۔ آج آپ کسی حکومت کو ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں لیکن کل ہو سکتا ہے اسے نکال باہر کیا جائے۔ اس لیے کمیشن کے مطابق یہ ہتھیار کسی کے بھی ہاتھوں میں خطرناک ہیں۔ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ کچھ کے ہاتھ میں یہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

چیئرمین بلکس کے مطابق جوہری ہتھیاروں اور زمین کے گرد خلاء میں لگائے جانے والے ہتھیاروں کے سلسلے میں اس وقت بھی دنیا میں ایک دوڑ جاری ہے۔ اس دوڑ کو روکنے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ مختلف ممالک کو یہ یقین دلایا جائے کہ انہیں ان ہتھیاروں کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے اپنے ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سویڈن میں دس جوہری ری ایکٹر ہیں جن کے لیے باہر سے فیول خریدا جاتا ہے۔ جو سستا بھی پڑتا ہے۔ اس لیے ایران کے لیے بھی اندرون ملک یورینیم افزودہ کرنے کی وجوہات معاشی نہیں بلکہ اب یہ ان کے قومی وقار کا مسئلہ ہے۔

ایران کے مسئلے کے حل کے لیے کمیشن کی سفارشات میں یہ بھی ہے کہ مشرق وسطٰی میں اسرائیل سمیت تمام ممالک سے یہ کہا جائے کہ وہ اگر فوری طور پر اپنے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے خالی نہیں کر سکتے تو کم از کم مزید یورینیم افزودہ نہ کریں۔

ہانس بلکس عراق کی جنگ سے پہلے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ بین الاقوامی ایجنسیاں، ان معاملات کو قومی ایجنسیوں کی نسبت بہتر طور پر سنبھال سکتی ہیں۔ ان کا اشارہ خصوصًا امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف تھا جنہوں نے جنگ سے پہلے عراق میں وسیع تباہی والے ہتھیاروں کے بارے میں جو رپورٹیں فراہم کیں وہ بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔

ہانس بلکس کے مطابق اگر معائنہ کاروں کو چند مہینے اور دے دیئے جاتے تو جنگ کی نوبت نہ آتی۔

اقوام متحدہ کا یہ چودہ رکنی کمیشن جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بچاؤ پر غور کرنے کے لیے سن 2003 میں قائم کیا گیا تھا ۔ اس میں دنیا کے ہر برِاعظم سے لوگ شامل ہیں۔

کمیشن نے ’خوف و ہراس پھیلانے والے ہتھیار‘ کے عنوان کے تحت اپنی رپورٹ میں نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ عالمی برادری کو ساٹھ تجاویز پیش کی ہیں جن میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک سی ٹی بی ٹی کو منظور کر لیں۔

اسی بارے میں
بلکس امریکہ پر برس پڑے
11.06.2003 | صفحۂ اول
بلیئر نے غلطی کی: بلکس
13.07.2003 | صفحۂ اول
عدم ثبوت ہی ثبوت تھا
10 March, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد