| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عراق نے ہتھیار تباہ کردیے تھے‘
اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کے سابق سربراہ ہانس بلِکس نے کہا ہے کہ برطانوی اور امریکی حکومتوں نے عراق پر حملہ کرنے کے غرض سے عراق کے ہتھیاروں کے بارے میں معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ یہ بات ہانس بلِکس نے جمعرات کو بی بی سی کے ریڈیو فور کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ ہانس بلکس نے کہا کہ حکومتوں کو سنجیدگی اور ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ بقول ان کے ’ہمیں معلوم ہے کہ اشتہار بنانے والے فِرج جیسی چیزوں کی خوبیوں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ خود اپنے دعووں پر پورا یقین نہیں رکھتے ۔ لیکن آپ کو حکومت سے ایسے رویے کی توقع تھوڑی ہوتی ہے۔‘ ہانس بلکس نے امریکی اور برطانوی حکومتوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے عراق کے بارے میں اپنی معلومات کو ضرورت سے زیادہ معنی خیز بنایا۔ ’ان کو یقین تھا کہ صدام حسین ایک مخصوص راستہ اختیار کریں گا اور ان کو اس بات کا اتنا زیادہ یقین تھا کہ وہ معلومات کا غیر جانبدار انداز سے جائزہ نہ لے سکے۔ یہ ایک خطرناک طریقہ کار ہے۔‘ ہانس بلِکس نے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پرانے زمانے میں لوگ دوسروں پر کالے جادو یا غلط کاموں کے الزام لگا کر اپنے الزام کی بنیاد یقین کے بنیاد پر انہیں مار دیتے تھے۔ ’یہ بہت خطرناک عمل ہے۔اور لازم ہے کہ ہمارے پاس ثبوت اور حقائق موجود ہوں۔‘ ڈاکٹر بلِکس نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کو عراق کے معاملے میں تھوڑا صبر کرنا چاہیے تھا اور اقوام متحدہ کے معائنہ کو جاری رہنے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب برطانوی اور امریکی قوتیں عراق میں ہیں لیکن وہ خود دنیا سے مہلت مانگ رہی ہیں اور صبر کرنے کی تلقین کر رہی ہیں جبکہ وہ خود صبر نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اس انٹرویو سے قبل ڈاکٹر بلِکس جنگ سے پہلے تیار کردہ برطانوی دستاویز کے بارے میں کہہ چکے تھے کہ اس کا یہ دعوی کہ صدام حکومت کے پاس پینتالیس منٹ کے اندر وسیع تباہی کے ہتھیار کو چلا نے کی صلاحیت تھی ایک بالکل غلط دعوی تھا۔ اور بدھ کو ہانس بلِکس نے یہ کہا تھا کہ ان کے خیال میں عراق نے تقریباً دس برس پہلے اپنے تمام وسیع تباہی والے ہتھیار تباہ کر دئے تھے۔ ہانس بلِکس کی ان باتوں کے بارے میں برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ’صدام حسین کے پاس وسیع تباہی والے ہتھیار تھے اور یہ ایک حقیقت ہے۔‘ ترجمان نے کہا کہ ان ہتھیاروں کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |