BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پر احتیاط سے کام لیں‘
سفارت خانے پر حملہ
ایرانی طالب علموں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے کے بعد باون افراد کو یرغمال بنا لیا تھا
اس وقت جب امریکہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ شہ سرخیوں میں ہے بی بی سی کے جیمی کمارا سوامی ستائس سال پہلے تہران میں یرغمال بنائے جانے والے امریکی سفارت کار سے ملے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سفارت کار کا ایران کا تجربہ امریکی کے لیئے ایک پرزم یعنی منشور کی حیثیت رکھتا ہے جس سے امریکیوں کی ایک نسل ایران کو دیکھتی ہے۔

رچرڈ مورفیلڈ یرغمال بنائے جانے والے باون افراد میں سے ایک تھے جو چار سو چوالیس دن تہران میں امریکی سفارت خانے میں یرغمال رہے۔ انہیں انیس سو اکیاسی میں رہائی ملی۔

ماضی کی یادوں کو کریدتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’میں انتیس جولائی انیس سو اناسی کو تہران پہنچا۔ میں نے نو ستمبر کو کونسلر سیکشن کو دوبارہ کھولا۔ اس دن میری پچاسویں سالگرہ تھی۔

’دو مہینے سے کم کے وقفے میں سفارت خانے پر شدت پسندوں نے قبضہ کر لیا‘۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں یرغمال بنانے والے ایرانی شدت پسند طالب علموں اور عام ایرانی عوام کے متعلق ان کے احساسات مختلف ہیں۔

رچرڈ مورفیلڈ
رچرڈ مورفیلڈ چار سو چوالیں روز یرغمال رہے

’میں ایران اور اس کی ثقافت اور مجھے چار سو چوالیس دن یرغمال رکھنے والے شدت پسند طالب علموں کو ایک ہی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا‘۔

ایک چوتھائی سے زیادہ صدی گزر جانے کے بعد بھی رچرڈ مورفیلڈ اور ان کی اہلیہ ڈوٹی کے لیئے اپنے یرغمال بنائے جانے کے دوران لیئے گئے نیوز فٹیج دیکھنا بہت مشکل ہے۔

ڈوٹی کہتی ہیں کہ ’اس سے بہت سارے جذبات یادیں واپس آ جاتی ہیں۔ وہ بہت مشکل وقت تھا۔۔۔ بہت ہی مشکل وقت‘۔

تاہم مورفیلڈ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے لوگوں کو چاہیئے کہ امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے والی تلخ یادوں سے باہر نکلیں اور اس ملک کے متعلق ذرا سوچ بچار کے رائے بنائیں جس کو صدر بش نے برائی کا محور قرار دیا ہے۔

’اکثر امریکیوں کو اگر کہا جائے کہ آنکھیں بند کر کے کسی ایرانی کا تصور کریں تو بہت ممکن ہے کہ ان کے ذہن میں ایک داڑھی والے۔۔۔ جھاڑی دار داڑھی والے۔۔۔ شخص اور چادر میں لپٹی ہوئی عورت کی تصویر آئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس سے بہت زیادہ ہے۔ ’یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں مختلف گروہ ہیں جن کو اگر موقع دیا جائے تو وہ جدید ایران بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں‘۔

ایرانی صدر احمدی نژادایرانی صدر نے لکھا
’آزاد خیالی اور جمہوریت ناکام ہو گئیں‘
آیت اللہ خمینیایران: کب اور کیسے
ایک صدی میں ہونے والے حالات اور واقعات
احمدی نژادمحمود احمدی نژاد
’سخت گیر مگر دیانت دار اور انسان دوست‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد