ایران کے خلاف پابندیوں پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام کو بند کرانے کی کوشش میں مصروف چھ مغربی طاقتوں نے اب ایران کے خلاف ممکنہ پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ جمعہ کی شام لندن میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے حکام کے ایک اجلاس کے بعد برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا کہ سرِدست کسی معینہ اقدام کے بارے میں بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی پابندیوں کا نظام اولاقات زیرغور آیا ہے۔ روس اور چین کا بدستور یہ موقف ہے کہ فی الحال ایران کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کی بجائے مذاکرات کو جاری رکھا جانا چاہیے۔ سیکورٹی کونسل کے اراکین میں اس بات پر اتفاق پیدا ہوگیا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے غیرفوجی پابندیوں کے بارے میں صلاح مشورہ کیا جانا چاہئے تاکہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے۔ اگرچہ سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت ایران پر لازم تھا کہ وہ اگست کے اختتام تک افزودگی بند کر دے مگر ایران نےاس کی پرواہ نہیں کی۔برطانوی وزیرخارجہ مارگریٹ بیکٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایران کا رویہ منفی رہا ہے۔ ایران کو جون میں کی گئی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران اسے قبول کرلے تو پرامن مقاصد کے لیے وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھ سکتا ہے۔ اجلاس کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مِس بیکٹ نے کہا کہ اب بھی زیادہ زور اس بات پر ہے کہ مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ تاہم ان کے بقول ایران اس وقت سب سے زیادہ فراخدلانہ پیشکش کا بھی کوئی جواب نہیں دے رہا۔ امریکہ اور برطانیہ، ایران کے یورنیم کی افزودگی بند کرنے سے مسلسل انکار اور بالخصوص روس کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کے سبب سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ | اسی بارے میں بوشہر پلانٹ مکمل کرینگے: روس27 September, 2006 | آس پاس ایران جوہری تنازعہ: فرانس تعاون کرے03 October, 2006 | آس پاس امریکہ، برطانیہ پر احمدی کا حملہ20 September, 2006 | آس پاس ایران بد دیانت ہے: امریکی رپورٹ14 September, 2006 | آس پاس ایران کا معاملہ پھر اقوام متحدہ میں؟27 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||