ایران کا معاملہ پھر اقوام متحدہ میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنا لوجی کا حصول جاری رکھنے کےایران کے فیصلے کا معاملہ سکیورٹی کونسل کے آئندہ اجلاس میں اٹھائے گا۔ وائٹ ہاؤس کا یہ بیان ایرانی صدر کے ایک نیوکلیئر پلانٹ کا افتتاح کرنے کے بعد آیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری توانائی پر کام روکنے کے مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود اپنا پروگرام جاری رکھےگا۔ سکیورٹی کونسل نےایران کو جوہری پروگرام 31 اگست تک بند کرنے یا سخت پابندیوں کا سامنا کرنے کو کہا ہے۔ ایران لگاتار یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام امن مقاصد کے لیئے ہے لیکن امریکہ کو شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔
سرکاری ریڈیو نے ایران کے مذاکرات کار لاری جانی کے حوالے سے بتایا کہ ان کا سنیچر کو ایرانی صدر نے اراک میں بھاری پانی سے متعلق ری ایکٹر کے نئے مرحلے کا افتتاح کیا۔ ایرانی صدر نے کہا ’ ہم کسی کے لیئے بھی خطرہ نہیں ہیں۔ یہودیوں کے لیئے بھی نہیں جو اس خطے کے عوام کے دشمن ہیں۔‘ یورینیم کی افزودگی روکنے کے بدلے اقوام متحدہ کے ذریعہ دیئے جانے والے پیکج کی پیشکش کے بعد ایران نے سنجیدہ گفتگو کرنے کی بات کی تھی۔ | اسی بارے میں اقوام متحدہ: ایران کے لیئے ڈیڈلائن31 July, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام نہیں رکےگا: ایران06 August, 2006 | آس پاس جوہری پیکج پر ایران کا جواب22 August, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام: مذاکرات پر زور23 August, 2006 | آس پاس ایران: بھاری پانی کے پلانٹ کا افتتاح26 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||