اقوام متحدہ: ایران کے لیئے ڈیڈلائن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل نے ایک قرار داد منظور کر ایران سے ایک مہینے کے اندر یورینیم کی افزودگی روکنے یا پھر ممکنہ پابندیوں کا سامنا کےلیئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ قطر واحد ملک تھا جس نے قرارداد کی مخالفت کی۔ یہ قراداد ایک کے مقابلے چودہ ووٹوں سے منظور کی گی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی نہیں روکی تو اسکے خلاف’مناسب کارروائی‘ کی جایگی لیکن اس میں پابندی عائد کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک ایران پر یہ الزام لگا تے رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پر امن مقاصد کے لیئے یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پانچوں مستقل رکن امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی گزشتہ دو ہفتے سے اس قرارداد پر مشاورت کر رہے تھے۔ اس سے پہلے سکیورٹی کونسل نے 12 جولائی کو یورینیم افزودگی کے پروگرام کو روکنے کے عوض ایران کو توانائی سمیت متعدد شعبوں میںمراعات دینے کی پیش کش کی تھی لیکن ایران اس معاملے میں 22 اگست تک جواب دینے میں ناکام رہا تھا۔ قراداد سے متعلق بحث کے دوران روس اور چین نے پابندیوں سے متعلق کسی خاص نکتہ کا ذکر کرنے کی مخالفت کی۔اس لیئے ایران کے ذریعہ یورینیم کی افزودگی نہیں روکنے کی صورت میں سکیورٹی کونسل کی مستقبل میں ایک اور میٹیگ ہوگی۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے ڈینیل لیک کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے پیکیج کو قبول کر کے یہ ثابت کرنا چاہیئے کہ یورینیم افزودگی کا اسکا مقصد توانائی سے متعلق ضرورتیں پوری کرنا ہے نہ کہ بم بنانا۔ ادھر عرب دنیا سے سکورٹی کونسل کا واحد رکن قطر کے سفیر کا کہنا تھا کہ کونسل کا مطالبہ تو مناسب ہے لیکن اسکے لیئے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ | اسی بارے میں این پی ٹی سے الگ ہونے کی دھمکی07 May, 2006 | آس پاس جوہری مذاکرات، ایران کا رویہ مثبت06 June, 2006 | آس پاس ’یورینیم کی افزودگی جاری ہے‘08 June, 2006 | آس پاس امریکہ کو ٹکا سا جواب25 July, 2006 | آس پاس جوہری تجاویز رد کرسکتے ہیں: ایران30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||