جوہری تجاویز رد کرسکتے ہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے تہران کے خلاف قرارداد منظور کی تو وہ جوہری تجاویز رد کردیں گے۔ اس سال جون میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام روکنے کے بدلے ایک مراعاتی پیکج کی پیش کش کی تھی۔ ابھی تک ایران نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ سکیورٹی کونسل نے جمعہ کو ایک قرار داد کے متن پر اتفاق کیا ہے جس میںایران کو اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے لیئے اگست کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ کونسل کا یہ مسودہ پندرہ ممبران کو بھیجا گیا تھا اور سوموار تک اس پر ووٹنگ کا امکان ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا ہے کہ اگر یہ قرار داد منظور کرلی گئی تو وہ اس پیکج کو رد کردیں گے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم سے متعلق اپنی تمام کارروائیاں بند کر دے جس میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ بھی شامل ہے۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایران نے ڈیڈلائن کی پرواہ نہ کی تو کونسل اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت کارروائی کرے گی۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے اور یہ صرف توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے مگرامریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو خدشہ ہےکہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔ | اسی بارے میں پروگرام روکنے والی پیشکش نامنظور14 May, 2006 | آس پاس امریکی تجویز ’پراپیگنڈہ‘ ہے: ایران31 May, 2006 | آس پاس سولانا تجاویز لے کر ایران جائیں گے03 June, 2006 | آس پاس ایران کا رد عمل مثبت ہے: بش07 June, 2006 | آس پاس ایران کو صدر بش کا نیا انتباہ20 June, 2006 | آس پاس امداد کا رستہ روکنے پر ایران برہم26 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||