امریکہ کو ٹکا سا جواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور حکومت مخالف ایرانی کارکن اور صحافی اکبر گنجی کے مطابق انہوں نے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران وائٹ ہاؤس کے افسران کے ساتھ ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے افسران نے انہیں ایران کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کی دعوت دی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے اکبرگنجی کے اس دعویٰ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپنے دورے کے دوران اکبرگنجی نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام اس کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ اکبرگنجی نے بتایا کہ انہوں نے امریکی افسران سے ملاقات کرنے سے اس لیئے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں عراق میں امریکہ کی پالیسیوں سے وہاں جمہوریت کے فروغ میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران بھی انہوں نےعراق میں امریکی پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا ’ آپ کسی ملک پر حملہ کر کے وہاں جمہوریت نہیں لا سکتے۔‘ اکبر گنجی نے کہا کہ عراق پر حملے سے اسلامی بنیاد پرستی کو تقویت ملی ہے اور اس سے خطے میں جمہوریت کی تحریک پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے واشنگٹن میں قیام کے دوران ایرانی حکومت مخالف کارکنوں کے ایک گروپ نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسروں نکولس برنز اور ایلیٹ ابراہم سے ملاقات کی تھی۔ اکبرگنجی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس قسم کی ملاقاتوں سے ایرانی حزب مخالف کے کردار پر برے اثرات پڑ یں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حزب مخالف یکجا ہوتی اور اس کا ایک باقاعدہ نمائندہ ہوتا تو وہ ایران میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی میں مدد کے لیے امریکہ سے بات چیت کر سکتی ہے۔ اپنے دورے کے بارے میں اکبر گنجی نے کہا کہ وہ امریکہ میں ایران کی تحریک جمہوریت کے نمائندے کے طور پر نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی حیثیت ایک صحافی کی ہے جس کا مقصد ایرانی جیلوں میں قید لوگوں کی حالت زار کی طرف بین الاقوامی برادری کی توجہ دلانا ہے۔ اکبرگنجی کے دورہ امریکہ کی خاص بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے ان کی تین روزہ بھوک ہڑتال تھی۔ اکبر گنجی اس سے قبل تہران میں واقع ایران کی بدنام جیل میں بھی بھوک ہڑتال کر چکے ہیں جو کئی ہفتے جاری رہی تھی۔ اس ہڑتال میں ان کے علاوہ کئی دیگر کارکن بھی شامل تھے جو ان کے بقول دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور انہیں حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف تھی۔ | اسی بارے میں اکبرگنجی چھ سال بعد رہا ہوگئے 18 March, 2006 | آس پاس اکبرگنجی نے احتجاج ختم کردیا22 August, 2005 | آس پاس اکبر گنجی کی رہائی کی اپیل مسترد24 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||