BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پیکج پر ایران کا جواب
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے
ایران نے چھ بڑے ممالک کی جانب سے پیش کیئے گئے جوہری پیکج کا باقاعدہ جواب دے دیا ہے۔ اس پیکج میں ایران کے یوریینم کی افزودگی کے بدلے میں اسے مراعات کی پیشکش کی گئی تھی۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق مراعاتی پیکج کا جواب ایران میں اقوام متحدہ کی سلاتی کونسل کے سفیروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ابھی ایرانی رد عمل کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں تاہم ایران پہلے ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ عالمی دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔

پیکج میں پیش کی جانے والی مراعات میں شہری استعمال کے لیئے جوہری ٹیکنالوجی میں مدد شامل ہے۔ یہ پیشکش مغربی ممالک کے اس خدشے کے تحت کی گئی ہے کہ ایران کے جوہر پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے۔

پیر کو اپنے بیان میں ایرانی رہنما خیت اللہ علی خامنائی نے کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سارجنٹ کا کہنا ہے کہ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کہ وہ جوہری تنازع کے حل کے لیئے مزید بات چیت چاہتا ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ وہ جوہری پیشکش کا ایسا جواب دیں گے جس کے کئی ’زاویے‘ ہوں گے۔

خامنائی
’ایران نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ اس پر قائم رہے گا‘

روس، چین فرانس، برطانیہ، جرمنی اور امریکہ نے ایران کو یہ جوہری پیشکش 6 جون کو کی تھی جس کے بعد اس پر ردعمل کے لیئے منگل یعنی 22 اگست کی ڈیڈلائن کا تعین ایران نے خود کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مطالبہ ہے کہ وہ 31 اگست تک یورینیم کی افزودگی روک دے یا پھر اقتصادی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرے۔ ابھی ان پابندیوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

مراعاتی پیکج میں ایران پر سے کچھ اقتصادی پابندیں اٹھانے کی پیشکش بھی ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا فریق ہونے کے باعث جوہری توانائی پر تحقیق کرنے کا حق رکھتا ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری پروگرام پر کام کررہا ہے۔ جبکہ امریکہ نے تو فوجی ایکشن کا امکان بھی رد کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اتوار کواقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ ’ایران کو اس اہم موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ مجھے اعتبار ہے کہ ایران کا ردعمل مثبت ہوگا‘۔

پیر کو آیت اللہ خامنائی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ایران نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ اس پر قائم رہے گا‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی طاقتیں ایران کی سائنسی تحقیق روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔

یاد رہے کہ ایران افزودگی نہ روکنے کی صورت میں پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں لگائی گئیں تو اس سے مغرب کو زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس کا اثر موسمِ سرما کے دوران عام لوگوں پر پڑے گا۔

ایران تیل پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد