تہران کو ڈیڈ لائن دینے پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یواین سکیورٹی کونسل کے پانچ ممبران کا ایران کو اکتیس اگست تک یورینیم کی افزودگی کو روکنے کا نوٹس دینے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ کونسل کا یہ مسودہ پندرہ ممبران کو بھیجا گیا تھا اور سوموار تک اس پر ووٹنگ کی جا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے امریکی سفیر جون بولٹن نے کہا کہ اگر ایران نے ڈیڈ لائن کی پرواہ نہ کی تو اس کے خلاف فوجی یا اقتصادی کارروائی کی جا سکتی ہے۔لیکن روس کے سفیر وٹلی چرکن کا کہنا ہے کہ مسودے میں پابندیوں کی دھمکی نہیں دی گئی جس سے ایران کو مذاکرات نہ کرنے کی ترغیب ملے گی۔ بی بی سی کے ڈینئل لیک کے مطابق اگرچہ مسودے میں پابندیوں کا ذکر نہیں مگر پھر بھی یہ ایران کو واضح اشارہ ہے کہ اس کے لئے اپنے نیوکلئیر مقاصد کو پورا کرنے کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اسکا نیوکلئیر پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور یہ صرف اسکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے مگرامریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو خدشہ ہےکہ ایران نیوکلئیر ہتھیاربنا رہا ہے۔ یواین کونسل کے پانچ مستقل ممبران چین، برطانیہ، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی پچھلے دو ہفتوں سے اس مسودے پر بحث کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم سے متعلق اپنی تمام کارروائیاں بند کر دے جس میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ بھی شامل ہے۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایران نے ڈیڈلائن کی پرواہ نہ کی تو کونسل اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت کارروائی کرے گی۔ روسی سفیر وٹلی چرکن کا نقطۂ نظر اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسودے میں دھمکی نہیں دی گئی اور اگر ایران نے پابندی نہ کی تو پھر مزید کیا کرنا ہے اس کے بارے میں سوچا جائے گا۔ یہ مسودہ بارہ جولائی کی اقوام متحدہ کی ویٹو کا اختیار والی اقوام اور جرمنی کی ایران کو مراعات پیش کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے ایران نے ٹھکرا دیا تھا۔ کونسل کو پوری امید ہے کہ یہ قرارداد ایران کو وقت ختم ہونے کی یاد کرائے گی۔ | اسی بارے میں امریکی الزامات پر خاموشی23 June, 2006 | آس پاس ایران: امریکہ کے الزامات مسترد24 June, 2006 | آس پاس اگست تک وقت چاہیے: ایران29 June, 2006 | آس پاس ’ایران پیکج کا جلد جواب دے‘07 July, 2006 | آس پاس امریکہ کو ٹکا سا جواب25 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||