 | | | مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران بم بنا رہا ہے |
ایران نے اس اپیل کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا آئندہ ہفتے ہونے والے جی - 8 ممالک کے اجلاس سے قبل اس کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لیے ان کے پیکج پر اپنا جواب دے۔ جمعرات کو ماسکو میں ایک میٹنگ کے بعد جی۔آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران سے کہا تھا کہ وہ مغربی ممالک کے پیکج پر اپنا ردعمل ان کے اگلے ہفتے کے اجلاس سے قبل ظاہر کرے۔ لیکن اپنے ردعمل میں ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ اسے مغربی ممالک کے اس پیکج پر غور کرنے کے لیے اگست تک کا موقع ملنا چاہیے۔ اس پیکج کا مقصد ایران کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لیے دوبارہ مذاکرتا شروع کرنا ہے۔ بدھ کے روز ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایٹمی معاملے پر ایران امریکہ سے بات نہیں کرسکتا۔ جمعرات کو جی۔آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی اپیل پر اپنے ردعمل میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ابھی بھی ایسے سوالات باقی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے اور اس لیے ایران کو اگست تک کا وقت چاہیے۔ جی۔آٹھ ممالک کا اجلاس آٹھ جولائی کو ہونے والا ہے جہاں یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہیویئر سولانا بھی موجود ہوں گے۔ اس اجلاس میں ایران کا ایٹمی تنازعہ زیرغور ہوگا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک پیکج ایرانی حکومت کو پیش کی ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔
|