BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی الزامات پر خاموشی
محمودی نژاد
ایران اس سے پہلے اس قسم کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے
امریکی جنرل کیسی کی طرف سے ایران پر عراق میں مزاحمت کاروں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات کا تاحال ایرانی حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

جنرل کیسی نے ایران پر مزاحمت کاروں کو بم بنانے کا مواد، ہتھیار اور تربیت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیرسن نے کہا کہ اس سے قبل ایران پر عراق میں شیعہ مزاحمت کاروں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیئے جاتے رہے ہیں لیکن ایران ان تمام الزامات کو پرزور طریقے سے مسترد کرتا رہا ہے۔

گو کہ ایران کی طرف سے ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن توقع یہی ہے کہ ایران ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دے گا۔

ماضی میں جب بھی برطانوی فوج کی طرف سے عراق میں مزاحمت کاروں کو دھماکہ خیز مواد مہیا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ایران نے ان کی پرزور طریقے سے تردید کی ہے۔

ایران نے اس کے جواب میں برطانوی فوج پر الزامات عائد کیئے ہیں کہ وہ ایران کے سرحدی علاقوں میں بم دھماکوں میں ملوث ہے۔ ان الزامات کی برطانوی فوج تردید کرتی ہے۔

اس صورت حال میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران پر ان تازہ امریکی الزامات کی عراق کی شیعہ حکومت کی طرف سے بھی تائید کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں عراق اور ایران کے درمیان تعلقات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔

کچھ ایرانیوں کی طرف سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ اگر امریکہ کی طرف سے ایران پر حملہ ہوتا ہے توایران عراق میں شیعہ اکثریت پر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

حالیہ مہینوں نے ایران نے عراق کے بارے میں امریکہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیئے امریکہ سے براہ راست بات چیت کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن امریکہ تاخیری حربہ استعمال کرکے ان مذاکرات کو مؤخر کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ بات چیت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

درین اثنا ایران کے تیل کے وزیر نے کہا ہے کہ ستمبر کے مہینے سے ایران پیٹرول کی برآمدات بند کر دے گا اور ملک میں تیل کی راشننگ شروع کر دی جائے گی۔

اس اقدام کا مقصد اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بچانا ہے جو ایران ہر سال ملک میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کی کمی کی وجہ سے پیٹرول کی برآمدات پر صرف کرتا ہے۔

دنیا میں ایران تیل پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن اپنی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے اسے پٹرول برآمد کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد