امریکہ، برطانیہ پر احمدی کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمدی نژاد نے امریکہ اور برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اپنی سلامتی کے لیئے کونسل کو استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جب بھی کسی ملک سے اختلافات ہوتے ہیں تو یہ اسے گھسیٹ کر کونسل کے سامنے لے آتے ہیں۔ ’جہاں پر یہ سرکاری وکیل، جج اور جیوری ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ماضی میں جوہری توانائی کو غلط طریقے سے استعمال کیا ہے، جس میں جوہری بموں پیداوار بھی شامل ہے، اور کسی کے پاس تو انہیں (جوہری بموں کو) استعمال کرنے کا برا ریکارڈ بھی ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں سے برطانیہ اور امریکہ بھی ہیں جن کے پاس ویٹو کی طاقت ہے۔ ان کے علاوہ فرانس، روس اور چین ہیں۔ احمدی نژاد نے ایران کے جوہری پروگرام کا بھی دفاع کیا اور اسے پرامن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کی جوہری سرگرمیاں شفاف، پرامن اور آئی اے ای اے کی محتاط نگاہوں کے سامنے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران بین الاقوامی دباؤ میں آ کر یورینیم کی افزودگی کو معطل نہیں کرے گا۔ | اسی بارے میں جنرل اسمبلی سے بش کا خطاب19 September, 2006 | آس پاس ’کشمیر کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں‘20 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||