’کشمیر کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے امید ظاہر کی ہے کہ ہوانا میں ان کی بھارتی وزیرِ اعظم کے ساتھ مثبت ملاقات پاک بھارت امن بات چیت آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ جنرل مشرف یہاں اقوامِ متحدہ کے اکسٹھویں سالانہ سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپس کے بہتر ہوتے ہوئے رشتوں اور سازگار عالمی ماحول کے باعث بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے قابلِ قبول حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پچھلے دو برسوں کی طرح اس بار بھی پاکستانی صدر کی تقریر میں کشمیر میں بھارتی حکومت کے مبینہ مظالم یا ریاستی دہشگردی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ سن دو ہزار تین وہ آخری سال ہے جب صدر مشرف نے جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت اور بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کا ذکر کی تھا۔اس کے بعد جب سے بھارت اور پاکستان میں بات چیت کا عمل شروع ہوا ہے پاکستانی موقف میں ماضی کی روایتی الزام تراشی سے مکمل اجتناب کیا جاتا رہا ہے۔ اپنی تقریر میں جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا لیکن ان کا ملک اپنے دفاع کی خاطر ضروری جوہری ہتھیار رکھنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ جنرل مشرف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور ’ہم اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے کوششیں کرتے رہیں گے‘۔ جنرل مشرف نے کہا کہ جوہری توانائی کے میدان میں پاکستان کو دہرا عالمی معیار قبول نہیں۔ ان کا اشارہ بھارت اور امریکہ کی نیوکلئیر ڈیل کی طرف تھا جس سے بھارت کے لیئے نیوکلیئر ممالک سے ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔ پاکستان کی شدید خواہش اور ضروریات کے باوجود امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایسے کسی سمجھوتے سے انکار کیا ہے۔ پاکستانی صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے حق میں ہے اور دونوں ملکوں کو طالبان کے حالیہ بڑھتے ہوئے اثر سے خطرہ ہے۔ انہوں نے ایران کا جوہری تنازع پُر امن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیئے جنرل مشرف نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنا ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کا نظریہ رکھا ۔ پیغمبرِ اسلام سے متعلق پوپ بینیڈکٹ کے ایک حالیہ بیان سے اٹُھ کھڑے ہونے والے تنازع کے پس منظر میں، جنرل مشرف نے کہا کہ اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کو بند ہونا چاہئے۔ | اسی بارے میں ’دہشت گردی کاخاتمہ کریں گے‘ 17 September, 2006 | آس پاس ملاقات ’نیک شگون‘ ہے: مشرف17 September, 2006 | آس پاس ہند و پاک بات چیت پر آمادگی 16 September, 2006 | آس پاس ’مشرف کے بیان پر افسوس ہے‘14 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||