ملاقات ’نیک شگون‘ ہے: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ اپنی ملاقات کو کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرنے کے لیئے ایک ’نیک شگون‘ قرار دیا ہے۔ اتوار کے روز کیوبا میں غیر جانبدار ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے بعد نیویارک پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کو ’کامیاب‘ قرار دیا۔ گزشتہ رات ایک گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی صدر نے اس بارے میں کوئی بات کہی ہے۔ صدر مشرف نیو یارک میں قیام کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور واپسی پر لندن کا مختصر نجی دورہ بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے لیے اطمینان بخش ہے۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے حوالے سے بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ اُسے فتح تو نہیں کہیں گے لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ مشترکہ اعلامیہ امن مذاکرات کی جیت ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سنگھ سے ملاقات میں انہوں نے تنازعات کے حل کی تفصیلات پر بات نہیں کی۔ ان کے مطابق انہوں نے اختلافات کو کم کرنے اور مفاہمت کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں نے کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت سے حل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ صدر نے جامع مذاکرات کے سلسلے میں خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کی تاریخ تو نہیں بتائی البتہ اتنا کہا کہ یہ بات چیت بہت جلد ہوگی۔ بھارتی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے سوال پر صدر نے کہا کہ وہ اس میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں اور اس بارے میں تاریخیں اپنی سہولت کے مطابق طے کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم اور صدرِ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت نےدہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے بات چیت کے عمل کو فوراً شروع کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور دونوں ممالک معلومات کے تبادلے کا نظام وضع کریں گے۔ ہوانا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بعد پاکستان میں بھارت کے ہائی کشمنر شیو شنکر مینن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی تعاون پر اتفاق ایک نیا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا پہلے کبھی ایسی کوشش نہیں کی گئی ہے۔شیو شنکر مینن جو وزارت خارجہ کے سیکریٹری نامزد ہوئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور پاکستان مل کر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے کام کرنے پر تیار ہے۔ شیو شنکر مینن نے کہا کہ دونوں ممالک میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایسا نظام وضح کیا جائے گا جس کے تحت دونوں ممالک دہشت گردی سے متعلق تحقیقات میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ شیو شنکر مینن سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کی ’آئی ایس آئی‘ اور انڈیا کی ’را‘ مل کر کام کریں گیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اتنا آگے کا ابھی نہیں سو چ رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹہراتا آیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے اور حالیہ مہینوں میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام پاکستان پر نہیں لگایا گیا ہے اور اس واقعے کی ابھی تحقیات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تسلیم کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے اور دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکالیں گے۔ پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو علاقے میں امن قائم کرنے کے تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے اور جموں و کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کوسلجھانے پر توجہ دینے چاہیئے۔ | اسی بارے میں مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی16 September, 2006 | آس پاس ’آہنی پردہ حائل ہونے سے روکیں‘22 September, 2004 | صفحۂ اول مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن23 September, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||