مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات ہوگی۔ ہوانا میں بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے مثبت نتائج نکلیں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ سے شروع ہو سکے گا۔ غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو علاقے میں امن قائم کرنے کے تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے اور جموں و کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کوسلجھانے پر توجہ دینے چاہیے۔ صدر جنرل مشرف نے کہ دونوں ممالک کے درمیان تین سال سے جاری بات چیت کے عمل سے اعتماد کی فضا قائم ہوئی اور اور انہیں امید ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا۔ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے وزیر اعظم من موہن سنگھ اورصدر مشرف کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا کہ تنظیم نے اگر دہشت گردی کے بارے میں واضح موقف اختیار نہ کیا تو اس سے یہ غیر موثر ہو کر رہ جائے گی۔ بھارتی وزیر اعظم نے تجویز کیا کہ غیر جانبدار ممالک ایک اعلی سطحی گروپ تشکیل دے جو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کام کرے۔ کیوبا کے معمر رہنما فیڈل کاسترو نے غیر جانبدار کانفرنس سے خطاب نہیں کیا اور ان کی جگہ ان کے چھوٹےبھائی راہول کاسترو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ راہول کاسترو نے کہا کہ امریکہ کبھی دہشت گردی کے نام اور کبھی جمہوریت پھیلانے کے نام پر دوسرے ممالک کے خلاف جارحانہ کاررائیاں کرتا ہے اور وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو متحد ہو کر امریکہ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’آہنی پردہ حائل ہونے سے روکیں‘22 September, 2004 | صفحۂ اول مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن23 September, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||