’دہشت گردی کاخاتمہ کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نےدہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک معلومات کے تبادلے کا نظام وضح کریں گے۔ کیوبا میں غیر جانبدار ممالک کی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور انڈیا کے وزیر عظم منموہن سنگھ کے درمیان ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے بات چیت کے عمل کو فوراً شروع کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہوانا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہےکہ یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بعد پاکستان میں بھارت کے ہائی کشمنر شیو شنکر مینن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی تعاون پر اتفاق ایک نیا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا پہلے کبھی ایسی کوشش نہیں کی گئی ہے۔شیو شنکر مینن نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ملکر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے کام کرنے پر تیار ہے۔ شیو شنکر مینن نے کہا کہ دونوں ممالک میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایسا نظام وضح کیا جائے گا جس کے تحت دونوں ممالک دہشت گردی سے متعلق تحقیقات میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ شیو شنکر مینن سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کی آئی ایس آئی اور انڈیا کی را مل کر کام کریں گیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اتنا آگے کا ابھی نہیں سو چ رہے ہیں۔ جب ان پوچھا گیا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹہراتا آیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے اور حالیہ مہینوں میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام پاکستان نہیں لگایا گیا ہے اور اس واقعے کی ابھی تحقیات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تسلیم کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے اور دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکالیں گے۔ پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو علاقے میں امن قائم کرنے کے تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے اور جموں و کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کوسلجھانے پر توجہ دینے چاہیئے۔ | اسی بارے میں مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی16 September, 2006 | آس پاس ’آہنی پردہ حائل ہونے سے روکیں‘22 September, 2004 | صفحۂ اول مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن23 September, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||