BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 16:39 GMT 21:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند و پاک بات چیت پر آمادگی
صدر مشرف اور انڈیا کے وزیر عظم منموہن سنگھ کی ملاقات
صدر پرویز مشرف اور وزیر من موہن سنگھ کی ملاقات اور بات چیت کے بارے میں مشترکہ اعلامیہ متوقع ہے
کیوبا میں غیر جانبدار ممالک کی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے صدر مشرف اور انڈیا کے وزیر عظم منموہن سنگھ کی ملاقات اور بات چیت ہوئی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صدر اور انڈیا کے وزیر اعظم دونوں رسمی طور پر دو طرفہ بات چیت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دو سال کے دوران ہونے والی اس چوتھی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے کشمیر کے مسئلے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

یہ اعلان ایک اعلامیے کے ذریعے کیا گیا ہے جو ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

ہوانا میں ہونے والی اس ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ کی تفصیلات ابھی آ رہی ہیں۔ یہ اعلامیہ صدر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے حکام کے مل کر تیار کیا۔

وا
صح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بات چیت کا سلسلہ انڈیا نے ممبئی میں بم دھماکوں کے بعد منقطع کر دیا تھا۔

دارالحکومت ہوانا میں غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات متوقع تھی اور بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو علاقے میں امن قائم کرنے کے تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے اور جموں و کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کوسلجھانے پر توجہ دینے چاہیئے۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا کہ تنظیم نے اگر دہشت گردی کے بارے میں واضح موقف اختیار نہ کیا تو اس سے یہ غیر موثر ہو کر رہ جائے گی۔ بھارتی وزیر اعظم نے تجویز کیا کہ غیر جانبدار ممالک ایک اعلی سطحی گروپ تشکیل دے جو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کام کرے۔

اس کے برخلاف معمر رہنما فیڈل کاسترو کے چھوٹےبھائی راہول کاسترو نے جو کیوبا کے صدر بھی ہیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ راہول کاسترو نے کہا کہ امریکہ کبھی دہشت گردی کے نام اور کبھی جمہوریت پھیلانے کے نام پر دوسرے ممالک کے خلاف جارحانہ کاررائیاں کرتا ہے اور وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو متحد ہو کر امریکہ کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔

اسی بارے میں
مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن
23 September, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد