BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 19:59 GMT 00:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس
رمزفیلڈ
رمزفیلڈ پہلے سب سے کم عمر اور پھر سب سے عمر رسیدہ امریکی وزیر دفاع رہے۔
منگل کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں حکمران ریپبلیکن پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کا پہلا شکار وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔




انتخابی نتائج کے بعد اپنے پہلے خطاب میں صدر جارج ڈبلیو بش نے رمز فیلڈ کے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’کافی بحث و مباحثہ کے بعد میں نے اور رمزفیلڈ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پینٹاگان کی قیادت بدلنے کا یہ مناسب وقت ہے‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ سی آئی اے کے سابق سربراہ رابرٹ گیٹس امریکہ کے نئے وزیر دفاع ہونگے۔ صدر بش نے رمزفیلڈ کو محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کی خدمت پروقار اور شاندار طریقے سے کی۔

عراق میں امریکی ناکامیاں وسط مدتی انتحابات کا بڑا موضوع رہیں اور اس حوالے سے رمزفیلڈ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔

صدر بش نے رمزفیلڈ کو سال دو ہزار میں وزیر دفاع مقرر کیا تھا، وہ اس سے پہلے 1975 میں صدر جیرالڈ فورڈ کی کابینہ میں بھی اسی عہدے پر فائز رہے۔ انہیں سب سے کم عمر اور سب سے عمر رسیدہ امریکی وزیر دفاع ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

بش انتظامیہ کا حصہ بننے پر ابتداء میں رمزفیلڈ اتنے مقبول رہنماء نہیں تھے اور روس، چین اور شمالی کوریا کے معاملات پر ان کے وزیر خارجہ کولن پاؤل کے ساتھ

رابرٹ گیٹس
رابرٹ گیٹس نئے امریکی وزیر دفاع ہونگے۔
شدید اختلافات تھے۔ تاہم ’نائن الیون‘ کے بعد وہ ایک ’عوامی ہیرو‘ کے طور پر خوفزدہ امریکی عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے ٹی وی پر بارہا دیکھے جاتے۔

مغربی مبصرین کے مطابق افغانستان میں فوری کامیابیوں نے رمزفیلڈ کی مقبولیت میں اضافہ کیا، لیکن عراق میں جانے کا امریکی فیصلہ ان کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ عراق میں ناکامیوں کے حوالے سے ان پر تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔

ابو غریب جیل میں قیدیوں پر ہونے والے مظالم اور غیر انسانی سلوک کی تفصیلات سامنے آئیں تو رمزفیلڈ کے استعفے کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا۔ لیکن صدر بش نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا ’وہ (رمزفیلڈ) میری کابینہ کا حصہ رہیں گے‘۔

لیکن وسط مدتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کی شکست نے ثابت کر دیا کہ امریکی عوام ’بش انتظامیہ‘ کی عراق سے متعلق پالیسی سے خوش نہیں جبکہ رمزفیلڈ اس پالیسی کے ایک بڑے وکیل رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد